دعاء اور عربی زبان
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
دعاء اور عربی زبان دعا کا تصور عام لوگوں کے ذہن میں تقریباً وہی ہے جو عاملین کے یہاں پر اسرار کلمات کا ہوتا ہے۔ عامل یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں فلاں الفاظ کسی خاص ترتیب یا خاص تعداد میں زبان سے ادا کردئے جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ فلاں صورت میں برآمد ہوگا۔ اسی طرح لوگوں کا خیال ہے کہ دعا الفاظ کے کسی مجموعہ کا نام ہے جس میں خاص تاثیرات چھپی ہوئی ہیں۔ اگر آدمی دعا کے ساتھ ان الفاظ کو صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کر دے تو اس کے نتیجہ میں وہ تمام تاثیرات لازماً ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی ۔ مگر یہ خیال صحیح نہیں ۔ دعا اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی خاص قسم کے لفظی مجموعہ کا نام نہیں ہے بلکہ ان کیفیات کا نام ہے جو احساس احتیاج کے تحت آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے اور پھر لفظوں کی صورت میں ڈھل جاتی ہے ۔ قرآن میں بہت سے انبیاء اور صلحاء کی دعائیں مذکور ہیں (مثلاً حضرت موسیٰ کی دعا، اصحاب کهف کی دعا، امرأۃ فرعون کی دعا) یہ ثابت ہے کہ ان لوگوں کی زبان عربی نہیں تھی۔ انبیاء کے متعلق قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ وہ مختلف علاقوں میں آئے اور وہ جہاں آئے وہیں کی مقامی زبان میں کلام کرتے تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان کی دعا ان کی اپنی مادری زبان (مقامی زبان) میں ہوتی تھی نہ کہ عربی زبان میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں ان کی دعا صرف معناً مذکور ہے نہ کہ لفظاً۔ اسی طرح حدیث میں بہت سے انبیاء کی دعائیں مذکور ہیں۔ مثلاً حضرت عیسیٰ کی یہ دعا جو انہوں نے اپنے ایک شاگرد کو سکھائی: اللهم فارج الهم و كاشف الغم و مجيب دعوة المضطرين رحمن الدنيا و الآخرة رحيمهما انت ترحمنى فارحمنى برحمة تغننى بها عن رحمة من سواك (رواه البزار والحاكم والاصبهانی) اے اللہ! مصیبت کو ہٹانے والے اور غم کو دور کرنے والے اور مجبور کی پکار کو سننے والے دنیا اور آخرت کے رحمان اور رحیم، تو ہی دونوں کا رحمان اور رحیم ہے پس تو مجھ پر ایسی رحمت فرما جو مجھے تیرے سوا دوسروں سے مستغنی کر دے۔ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کی زبان عربی نہیں تھی اس لئے یقینی طور پر یہ دعا انہوں نے اس زبان میں بتائی جو ان کی اور حواریوں کی پیدائشی زبان تھی۔ حدیث میں یہ دعا اگر عربی زبان میں نقل ہوئی ہے مگر یہ نقل بالمعنیٰ ہے نہ کہ نقل بالا الفاظ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader