قلبی دعا مطلوب ہے نہ کہ لفظی دعا
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
قلبی دعا مطلوب ہے نہ کہ لفظی دعا فلاں دعا بہت مجرب ہے، اس کو پڑھا کرو۔ ‘‘ ”فلاں ذکر کی بڑی فضیلت ہے، صبح و شام اس کا ورد کیا کرو۔ ‘‘ اس قسم کی باتیں اکثر سننے میں آتی ہیں۔ بے شمار کتابیں لوگوں نے لکھ رکھی ہیں جن میں اس قسم کے ”مجربات“ جمع کئے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ کتنی بزرگی کی دکانیں اسی کے قائم ہیں کہ لوگ بیٹھتے ہیں کہ ان کو دعاؤں اور اذکار کے یہیں سے علوم ہیں وہاں حاضری دیتے ہیں اور وہ پر اسرار طور پر ان کو ایسے مجربات کی تلقین کرتے ہیں جو ان کو سینہ بہ سینہ پہنچتے ہیں۔ مگر یہ ساری باتیں قطعاً بے اصل ہیں۔ دعا یا ذکر کوئی جادو کا منتر نہیں ہے جس کے سارے کمالات کچھ مقرر الفاظ میں چھپے ہوئے ہوں۔ اگر یہ خاص الفاظ مقرر طریقے پر زبان سے رڑھ دئے جائیں تو اس کی تاثیر ظاہر ہوجائے گی اور اگر الفاظ اور طریقے میں کچھ فرق ہو گیا تو منتر کا طلسماتی کمال ظاہر نہیں ہوگا۔ دعا یا ذکر دل کی کیفیات اور اندرونی تڑپ کا نام ہے نہ کہ پُر اسرار الفاظ کے کسی مجموعہ کا۔ قصہ مشہور ہے کہ کہیں ایک بند محل تھا۔ اس محل کے اندر بے شمار خزانہ بھرا ہوا تھا، مگر وہ کسی کنجی سے نہیں کھلتا تھا، بلکہ ایک منتر سے کھلتا تھا۔ ایک شخص کو اس محل کی تلاش ہوئی۔ برسوں تک پہاڑوں اور جنگلوں میں گھومنے کے بعد اسے ایک شخص ملا جو اس جادوئی محل کا راز جانتا تھا۔ اس نے اس کا پتہ بتایا اور کہا کہ تم اس کے سامنے پہنچو تو کہنا ”کھل اے سم سم‘‘۔ یہ کہتے ہی محل کا دروازہ کھل جائے گا اور تم اس میں داخل ہو جانا۔ اب آدمی نے سفر شروع کیا۔ چلتے چلتے بالآخر وہ خزانہ کے اس محل تک پہنچ گیا۔ مگر بدقسمتی سے اس کو کھولنے کا منتر بھول گیا۔ وہ محل کے بھاری دروازہ کے سامنے کھڑا ہو کر طرح طرح کے ملتے جلتے الفاظ دہراتا رہا: ٹم ٹم، بم بم، چم چم۔ مگر دروازہ نہیں کھلا۔ کیونکہ وہ تو ایک خاص لفظ بولنے ہی سے کھلتا تھا اور آدمی وہ لفظ بھول چکا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader