قلبی دعا مطلوب ہے نہ کہ لفظی دعا
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ دوبارہ محل کے عارف کی طرف روانہ ہوا اور دریاؤں اور بیابانوں کا سفر کر کے اس سے ملاقات کی ۔ عارف نے دوبارہ اس کو بتایا کہ جادوئی محل کا منتر "سم سم" ہے۔ اب اس نے اس منتر کو خوب رٹ ڈالا اور دوبارہ سفر کر کے محل کے پاس پہنچا۔ اب وہ محل کے سامنے کھڑا ہوا تو اس کو اس کا جادوئی منتر خوب یاد تھا۔ اس نے کہا " کھل جائے سم سم"، ان الفاظ کا زبان سے نکلنا تھا کہ محل کا دروازہ کھل گیا اور خزانوں کا چمکتی ہوئی دنیا اس کے سامنے آگئی۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دعا اور ذکر بھی اسی طرح "سم سم" کی قسم کے منتر ہیں، مگر یہ دین سے انتہائی ناواقفیت کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کو بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ اخبات و انابت (دل کا جھکنا اور توجہ) ہے نہ کہ لفظی طلسمات۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دیہاتی کا اونٹ گم ہو گیا۔ وہ بیتابانہ اس کو ڈھونڈ رہا تھا۔ لمبی تلاش اور دوڑ دھوپ کے بعد جب اونٹ اس کو ملا تو اس کا شکر الہی کے جذبہ سے بھر گیا اور بے اختیار اس کی زبان سے نکلا کہ : اللهم انت عبدی و انا ربک : خدایا تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ لفظوں کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ کفر کا کلمہ ہے۔ مگر یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کو اتنے پسند آگئے کہ اس کو خدا کے مقبول بندوں میں شامل کر دیا گیا۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ میں "اللہ ہمارے ظاہر کو نہیں دیکھتا، وہ ہمارے قلب اور ہمارے باطن کو دیکھتا ہے"۔ دعا اور ذکر دین کی سب سے اعلیٰ حقیقتیں ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کچھ پراسرار قسم کی عربی منتر ہیں۔ ان کو رٹ کر خاص خاص وقت میں دہرادو اور محل کے دروازے کھل جائیں گے۔ دعا کی حقیقت بندے کا اپنے مالک کو پکارنا ہے۔ اسی طرح ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا خوف اور محبت اس طرح دل پر چھا جائے کہ ہر وقت اس کی یاد آتی رہے۔ دعا اور ذکر ہی افضل ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلے خواہ وہ اپنی مادری زبان میں ہو۔ خواہ اونٹ والے کی طرح وہ بے ڈھنگے الفاظ میں کیوں نہ ادا ہوئی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader