دعا عبادت ہے
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
دعا عبادت ہے دعا کے معنی ہیں پکارنا۔ یہ لفظ جب شرعی اصطلاح کے طور پر بولا جائے تو اس کا مطلب ہوگا اللہ کو پکارنا، اللہ سے التجاکرنا۔ یہ دعا ایک عظیم عبادت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ الدعاء هو العبادة ، (الترمذی، ابن ماجه، احمد) یعنی دعا ہی عبادت ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الدعاء مخ العبادة (الترمذی، کتاب الدعاء ) یعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔ دعا کا عبادت ہونا بتاتا ہے کہ دعا ایک ذاتی نوعیت کا عمل ہے۔ ہر آدمی کو اپنی دعا آپ کرنا ہے، جس طرح ہر آدمی اپنی عبادت آپ کرتا ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ کسی دوسرے آدمی سے کہے کہ تم میری طرف سے نماز پڑھ دو اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تم میرے لئے دعا کر دو۔ قرآن میں اہل ایمان کی یہ صفت بتائی گئی ہے: يدعون ربهم خوفاً وطمعاً (السجدہ: 16) یعنی وہ لوگ اپنے رب کو پکارتے ہیں خوف کے ساتھ اور امید کے ساتھ۔ کسی آدمی کا اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارنا انتہائی قسم کا ذاتی عمل ہے۔ یہ دعائیہ واقعہ کسی آدمی کے دل کی انتہائی گہرائیوں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ اس قسم کی دعا ایک آدمی کو خود کرنا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تم میری طرف سے خوف کر لینا یا میری طرف امید کر لینا۔ اس قسم کی دعا کسی انسان کے لئے اس کی عبدیت کا معیار ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھنے کا مدعی ہو اس کی زندگی میں ایسے لمحات آنے چاہئیں جب کہ اس کی روح اللہ کی یاد میں تڑپ اٹھے۔ اسکے دل و دماغ میں اللہ کے تصور سے زلزلہ پیدا ہو جائے۔ اس کے سینے میں تعلق باللہ کا سیلاب امنڈ پڑے اور پھر زلزلہ خیز کیفیت کے ساتھ وہ سراپا التجا بن کر اللہ سے دعا کرنے لگے۔ جس آدمی کے اندر یہ کیفیت پیدا نہ ہو اس کا ایمان ہی اللہ کے نزدیک غیر معتبر ہو جاۓ گا۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ: من لم يسأل الله يغضب عليه (الترمذی، کتاب الدعوات) یعنی جو شخص اللہ سے سوال نہیں کرتا اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader