Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا عبادت ہے

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا ایک ایسا لطیف عمل ہے جو براہِ راست خدا اور بندے کے درمیان پیش آتا ہے۔ اس عمل کے دروان کوئی تیسرا شخص موجود نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بہترین دعا وہ ہے جو تنہائیوں میں کسی بندۂ خدا کے سینے سے ابلتی ہے۔ ایک روایت میں جنتی انسان کی ایک صفت یہ بتائی گئی ہے: ذکر الله خاليا ففاضت عيناه (النسائی، مؤطا) یعنی وہ شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور پھر اس کی دونوں آنکھیں بہہ پڑیں۔ ان نصوص کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دعا انتہائی ذاتی نوعیت کا ایک لطیف عمل ہے ۔ وہ ہر مدعی ایمان کے لئے اس کی ربانیت کا اظہار ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ دعا ایسی چیز نہیں کہ آپ کسی مفروضہ بزرگ سے مل کر کہیں کہ آپ میرے لئے دعا کر دیجئے ۔ اس قسم کی درخواست بلاشبہ دعا کی تصغیر ہے۔ یہ گویا اللہ کی طرف دوڑنے کے بجائے انسان کی طرف دوڑنا ہے۔ اسی طرح لاؤڈ اسپیکر پر دعا کرنا بھی ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ اس قسم کا نمبرانہ یا ایک تقریر ہے نہ کہ دعا۔ حتیٰ کہ یہ بھی حقیقی دعا نہیں کہ آپ کچھ الفاظ کوٹ لیں اور ہر بار ان رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرا دیں۔ دعا اپنی حقیقت کے اعتبار سے قلبی تڑپ کا ایک عمل ہے وہ رسمی الفاظ کے کسی مجموعے کا نام نہیں۔ صحیح البخاری میں کتاب الایمان کے تحت ایک باب کا ترجمہ باب ان الفاظ قائم کیا گیا ہے۔ دعا و کم ایمانکم (تمہاری دعا تمہارا ایمان ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا ایمان ویسی دعا۔ دعا ایمان کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔ اگر آدمی کو گہرا ایمان حاصل ہوا ہے تو اس کی دعا بھی دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی ایک ربانی آواز ہوگی۔ وہ جب دعا کرے گا تو اس کا پورا وجود اس کی دعاؤں میں شامل ہو جائیگا۔ دعا اس کے لئے اپنے رب سے ملاقات کا لمحہ بن جائے گی۔ اس کی دعا اپنے رب سے سرگوشی (whisper) کے ہم معنی ہوگی جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : ینا جی ربه (مسند احمد) اس کے برعکس، جس کا ایمان قلب میں اترا ہوا نہ ہو بلکہ صرف لفظی اقرار کے ہم معنی ہو، اس کی دعا بھی صرف لفظی اور رسمی دعا ہوگی۔ وہ کچھ رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرائے گا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page