Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

حدیثِ دعا

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیثِ دعا ان الدعاء هو العبادۃ (احمد) دعا ہی عبادت ہے الدعاء مخ العبادۃ (ترندی) دعا عبادت کا مغز ہے من لم يسأل اللہ يغضب عليه (ترندی) جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے غضب ناک ہوتا ہے (ترندی) الان بالقدر الا الدعاء ( ترندی) قضا کو صرف دعا ہی ٹال سکتی ہے لا يرد القضاء الا الدعاء ( ترمذی ) ما من احد يدعوا بدعاء الا آتاه الله ماسأل او كف عنه من السوء مثله مالم يدع باثم اوقطعية رحم ( ترمذی ) کوئی شخص جب اللہ سے دعا کرتا ہے تو اللہ یا تو اسکو وہ چیز دے دیتا ہے جو اس نے مانگی تھی یا اس کے برابر کوئی بلا اس سے روک دیتا ہے‘ جب تک کہ وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔ ليس شئی اکرم علی الله من الدعاء ( ابن ماجه ) اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں سلوا الله من فضله فان الله يحب ان يسأل (ترمذی) اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ کیوں کہ اللہ پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے ان الدعاء ينفع مما نزل و مما ينزل فعلیکم عباد الله بالدعاء (احمد) دعا ان چیزوں کے لئے بھی مفید ہے جو اتر چکی ہیں اور ان چیزوں میں بھی جو ابھی نہیں اتریں۔ تو اے اللہ کے بندو تم ضرور دعا مانگو۔ يسأل احدكم ربه حاجته كله حتى يسأل شسع نعله اذا نقطع (ترمذی) تم میں سے ہر ایک کو اپنے رب سے اپنی تمام حاجت مانگنا چاہئے یہاں تک کہ اگر اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو بھی خدا سے مانگے۔ دعا کرنے والا اپنے آپ کو عاجز مطلق کے مقام پر رکھتا ہے اور خدا کو قادر مطلق کے مقام پر۔ دعا ایک طرف اپنی حیثیت واقعی کا اقرار ہے اور دوسری طرف خدا کی حیثیت واقعی کا اعتراف۔ یہ حقیقت پسندی کی آخری شکل ہے اور حقیقت پسندی بلاشبہ اس دنیا کا سب سے بڑا عمل ہے۔ حقیقت واقعہ کے اعتراف سے بڑا کوئی عمل اس امتحان کی دنیا میں نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page