Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا کی طاقت

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا کی طاقت ہیون سانگ (Hsuan-tsang) ایک چینی بدہسٹ ہے۔ وہ ۶۰۲ ء میں پیدا ہوا اور ۶۶۴ ء میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ ۶۲۹ ء میں چین سے سفر کر کے انڈیا آیا۔ انڈیا کے بارہ میں اس کا سفرنامہ بہت تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانکا نے بتایا ہے کہ ہندوستان میں قیام کے آخری زمانہ میں ہوں سانگ کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ ایک سفر کے دوران کچھ بحری قزاقوں نے اس کو پکڑلیا۔ یہ لوگ ہندو دیوی دُرگا کے پجاری تھے۔ انہوں نے ہیون سانگ کو اپنی دیوی کے نام بلیدان کرنا چاہا۔ سانگ نے کافی احتجاج کیا۔ اس نے کہا کہ وہ ایک بودھ درویش ہے اور صرف سچائی کی تلاش میں نکلا ہے۔ مگر بحری قزاقوں نے اس کی چیخ و پکار کا کچھ بھی لحاظ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ بظاہر اس کی موت یقینی ہو گئی۔ ہیون سانگ اس وقت کسی پر سوار تھا۔ آخر کار وہ خاموش ہو کر دھیان اور دعا میں مصروف ہو گیا۔ جس وقت وہ دعا اور مراقبہ میں مشغول تھا، سمندر میں زبردست طوفان اٹھا موجوں کے تھپیڑے نے کشتی کو گھیر لیا۔ یہ منظر دیکھ کر بحری قزاق اتنا گھبرائے کہ انہوں نے ہیون سانگ کو چھوڑ دیا اور شرمندہ ہو کر اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگنے لگے۔ چینی سیاح کے ساتھ یہ جو واقعہ پیش آیا۔ وہ قرآن کے اس بیان کے مطابق تھا کہ جب کوئی آدمی اضطرار اور مجبوری کی حالت کو پہنچ جائے اور اس وقت وہ دل سے خدا کو پکارے تو خدا اس کی مدد کرتا ہے اور اس کی مصیبت کو اس سے دور کر دیتا ہے (النمل ۶۲) اس میں مومن اور غیر مومن کی کوئی تفریق نہیں۔ جو بندہ بھی اپنے کسی نازک وقت میں اپنے رب کو پکارے گا وہ اس کی طرف سے اس کا جواب پائے گا۔ اس قسم کے واقعات ایک طرف خدا کے وجود کا ثبوت ہیں، اور دوسری طرف وہ بتاتے ہیں کہ اس دنیا میں انسان تنہا نہیں بلکہ اس کا ایک پاسبان ہے جو ہر مشکل وقت میں اس کے کام آتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page