Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

تو بہ نے طاقت ور بنا دیا

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں ہے کہ اللہ کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتا ہے (فاطر (۱۰) مذکورہ مسلمان کی دعا کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا۔ اس نے جب اپنی دعا کے ساتھ شراب چھوڑنے کا عہد کیا تو اس نے ایک نیک عمل کیا۔ اس نیک عمل کی وجہ سے اس کی دعا او پر اٹھ کر فوراً خدا کی بارگاہ میں پہنچی اور مقبول ہوئی۔ جب بھی آدمی اپنی دعا کے ساتھ اس قسم کا کوئی نیک عمل کرے تو اس کی دعا ضرور قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے۔ دعا کے ساتھ اس کے موافق نیک عمل دعا کے معاملہ میں آدمی کے سنجیدہ ہونے کا ثبوت ہے، اور جب آدمی اپنی مانگ میں سنجیدہ ہو اس کی مانگ ضرور پوری کی جاتی ہے۔ اس واقعہ کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ جب آدمی نے یہ کہا کہ ”خدایا میں آج سے شراب کو چھوڑتا ہوں تو میری مدد کر‘‘، تو اس نے اپنی طاقت کو بڑھایا۔ کیوں کہ اب اس نے خدا کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔ اگر وہ صرف ”خدایا مدد کر‘‘ کے الفاظ بولتا تو اس سے اس کے اندر وہ یقین نہ آتا۔ کیوں کہ یہ چھپا ہوا خیال پھر بھی اس کے دل میں باقی رہتا کہ میں خدا کو پکار رہا ہوں حالاں کہ میں خدا کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ جب اس نے شراب چھوڑنے کا عزم کیا تو بھر پور طور پر اس کو یہ امید پیدا ہوگئی کہ اب خدا ضرور میری مدد کرے گا۔ کیونکہ اب اس نے اپنے اور خدا کے درمیان پڑے ہوئے پردہ کو ہٹا دیا تھا۔ پہلی صورت میں اس کی مثال اگر چور کی سی تھی تو اب اس کی مثال اس شخص کی سی ہوگئی جس نے سامان کی قیمت اس کے دکاندار کو ادا کردی ہو۔ اس کی تو بہ نے اس کو نڈ ر بنا دیا اور اس کی قوت میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ توبہ کے فوراً بعد اس کے اندر سے احساس جرم نکل گیا۔ اس کا یہ اندیشہ مٹ گیا کہ میں خدا سے دور ہوں ۔ اب وہ خدا کی مدد کو اپنے حق میں یقینی سمجھنے لگا۔ اس کے اور خدا کے درمیان جو رکا وٹ تھی جب اس رکاوٹ کو اس نے دور کر دیا تو اندیشوں کے تمام غبار اس کے دل سے ہٹ گئے۔ خدا اس کو اپنا نظر آنے لگا، کیونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کا بنا چکا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page