تو بہ نے طاقت ور بنا دیا
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
پہنچادیا۔ وہ ایمان کی طاقت تھی۔ انہوں نے انسانوں سے گزر کر خدا کو پالیا تھا، پھر ان کو انسانوں کا ڈرکیوں ہوتا۔ شہر کے مسلم محلہ کو تخریب کاروں کے ایک غول نے گھیر لیا۔ مسلمان اپنے گھروں سے نکلے تو تخریب کاروں نے پتھر پھینکنے شروع کئے۔ مسلمانوں نے بھی اس کے جواب میں پتھر پھینکے۔ تخریب کاروں کو جب پتھر او سے کامیابی نظر نہ آئی تو انہوں نے بندوقوں سے فائر کئے پین۔ قریب نارین رجب پر پتھراؤ کیا گیا۔ اس راہزن نے مدروں سے فائرنگ جس سے کچھ مسلمان زخمی ہو گئے ۔ اس کے بعد مسلمان بھاگے اور اپنے گھروں میں داخل ہو گئے ۔ اب تخریب کاروں کا حوصلہ بڑھا۔ وہ آگے بڑھ کر محلہ میں گھس گئے اور مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں میں آگ لگانا شروع کر دیا۔ یہ بڑا نازک موقع تھا۔ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کریں۔ اس کے بعد محلہ کے ایک''دادا''کو اللہ نے ہمت دی اور اس نے مسئلہ کو حل کر دیا۔ اس شخص میں اور کوئی برائی نہ تھی البتہ وہ شراب پیتا تھا۔ وہ اپنے کمرہ میں داخل ہوا۔ اس نے تیمّم کیا اور سجدہ میں گر پڑا۔ سجدہ کی حالت میں اس نے دعا کی: خدایا آج تو ہماری عزت رکھ لے اور ہماری مدد کر۔ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد میں کبھی شراب نہیں پیوں گا۔ اس نے یہ دعا کی اور اس کے بعد پڑوسی کی بندوق لی اور تھیلہ میں کار توس بھر کر مجمع میں گھس گیا۔ اس نے چن چن کر تخریب کاروں کو اپنی بندوق کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ اگر چہ وہ خود بھی ہر وقت تخریب کاروں کے نشانہ کی زد پر تھا مگر اس وقت ڈر اس کے دل سے باہر نکل گیا تھا۔ وہ پوری بے خوفی کے ساتھ اپنا کام کرتا رہا۔ تخریب کاروں نے جب دیکھا کہ ان کے بہت سے ساتھی خاک و خون میں تڑپ رہے ہیں اور ''ہائے مار ڈالا‘‘ کی چیخیں بلند ہو رہی ہیں تو ان کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader