Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا کب قبول ہوتی ہے

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا کب قبول ہوتی ہے قرآن میں مختلف مقامات پر دعا کی حقیقت بتائی گئی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا ہے : ادعواربکم تضر عاد خفیہ انه لا يحب المعتدين ولا تفسدو فی الارض بعد اصلاحها وادعوه خوفا وطمعا ان رحمت الله قريب من المحسنين (اعراف ۵۶-۵۵) پکارو اپنے رب کو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ۔ یقیناً وہ پسند نہیں کرتا حد سے نکل جانے والوں کو۔ اور مت خرابی مچاؤ زمین میں اس کی درستی کے بعد۔ اور پکارو اس کو ڈرتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے ۔ یقیناً اللہ کی رحمت قریب ہے نیکی کرنے والوں سے۔ اس موقع پر احسان کا مطلب ہے دعا کے موافق عمل کرنا۔ دوسری جگہ یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے: ومن احسن تولا ممن دعا الى الله وعمل صالحا وقال اننی مسلمین (حم سجده ۳۳) اور کون شخص ہے بہتر بات میں اس شخص سے کہ پکارے اللہ کی طرف اور صالح عمل کرے اور کہے کہ میں حکم بردار ہوں۔ دعا کیا ہے ۔ بندے کا اعتراف عجز اپنے رب کے سامنے۔ جب ایک شخص اللہ پر اس حد تک یقین اور بھروسہ کر لیتا ہے کہ اس کی ساری امیدیں بس ایک اللہ سے وابستہ ہو جاتی ہیں ۔ اللہ کے سوا کسی اور سے نہ اس کو پانے کی امید ہوتی ہے اور نہ چھٹنے کا اندیشہ۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page