دعا کب قبول ہوتی ہے
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
وقت اس کی زبان سے جو بیٹا بانہ کلمات نکل پڑتے ہیں، اسی کا نام دعا ہے۔ بندہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ کی سپر دگی میں دے دیتا ہے اور کہتا اٹھتا ہے کہ میرے رب ! مجھے اپنی رحمتوں کے سایہ میں لے لے۔ تیرے سوا کوئی کسی کو بچا نہیں سکتا۔ تیرے سوا کوئی کسی کو سایہ نہیں دے سکتا۔ دعا کے یہ الفاظ اللہ کی نظر میں اسی وقت دعا ہیں جب کہ عمل صالح (دعا کے موافق عمل ) سے اس کی تصدیق ہو رہی ہو۔ آدمی اپنے رب سے اپنے لئے جس رحمت اور عفو و درگزر کا طالب ہے۔ دوسرے انسانوں کے ساتھ رحمت اور عفو و درگزر کا وہی طریقہ اختیار کرنا زمین کی اصلاح ہے۔ اور جب ایسا ہو کہ آدمی اپنے لئے تو رحمت اور عفو و درگزر کا امید وار ہو اور خود دوسرے انسانوں کے ساتھ سرکشی اور بے پرواہی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کا نام زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔ اللہ کے سامنے حد بندگی میں ہونے کا اقرار کرنا اور دنیا کی زندگی میں جب دوسرے انسانوں سے عملی سابقہ پیش آئے تو حد بندگی سے نکل جانا ایسا تضاد ہے جو ایک طرف زمین کو فساد سے بھر دیتا ہے اور دوسری طرف آدمی کی دعا کو اللہ کی نظر میں بالکل بے معنی بنا دیتا ہے۔ آدمی اپنی دعا کو اللہ کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مگر اس بات کا ثبوت اس کو انسانی تعلقات ہی میں دینا ہے کہ وہ اپنی دعا میں محسن ہے یا نہیں۔ جو شخص انسانی تعلقات میں اپنی دعائیہ حیثیت کو بھول جائے اس کی مثال ایسے آدمی کی ہے جس نے زبان سے بڑے بڑے دعوے کئے مگر جب اس کا امتحان لیا گیا تو وہ صفر سے زیادہ نمبر حاصل نہ کر سکا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader