Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا اور اعتراف

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا اور اعتراف تاریخِ اسلام کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو مواخاہ کہا جاتا ہے۔ مکہ کے مسلمان جب مہاجر کی حیثیت سے مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ دو دو شخص اللہ کی راہ میں بھائی بھائی بن جاؤ (تا آخوافی اللہ اخوین اخوین) اس ہدایت کے مطابق ہر انصاری نے ایک مہاجر کو اپنا بھائی بنالیا۔ انصار نے اپنے تمام اثاثہ کو تقسیم کرکے آدھا خود لیا اور آدھا اپنے مہاجر بھائی کو دیدیا۔ اس مواخاۃ کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ اس معاملہ میں انصار نے یک طرفہ طور پر جس کمالِ ایثار کا ثبوت دیا اس کی کوئی مثال پوری معلوم تاریخ میں نہیں ملتی۔ انصار کے اعلیٰ سلوک سے خود مہاجرین بے حد متاثر تھے : قال الامام احمد : حدثنا يزيد، اخبرنا حميد، عن انس، قال : قال المهاجرون : يا رسول الله ما رأينا مثل قوم قدمنا عليهم احسن مواساة في قليل، ولا احسن بذلا من كثير، لقد كفرنا المؤونة واشركونا في المهنا، حتى لقد خشینا ان یذھبوا بالاجر کلہ قال: لا، ما اثنیتم علیہم ودعوتم اللہ لھم حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا کہ اے خدا کے رسول، جس قوم کے یہاں ہم آئے ہیں، ان سے بہتر قوم ہم نے نہیں دیکھی۔ وہ کم میں بہترین ہمدردی کرنے والے ہیں اور زیادہ میں بہترین خرچ کرنے والے ہیں۔ وہ محنت میں ہماری طرف سے کافی ہو گئے اور پیدااوار میں ہم کو شریک کر لیا۔ حتیٰ کہ ہم کو ڈر ہے کہ سارا اجر انہیں کو نہ مل جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم ان کی تعریف کرو اور اللہ سے ان کے لئے دعا کرتے رہو (سیرۃ ابن کثیر ۲/۳۲۸)۔ اس حدیث سے نہایت اہم اسلامی اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ زید کو بکر سے کچھ ملے مگر زید کے پاس کوئی مادی چیز لوٹانے کے لئے نہ ہو تو وہ کیا کرے۔ ایسی حالت میں زید کو چاہئے کہ وہ بکر کے عطیہ کا کھلے دل سے اعتراف کرے۔ اعتراف کا یہ احساس اتنا زیادہ گہرا ہو کہ زید کے دل سے بکر کے لئے دعائیں نکلنے لگیں..... مال والے کے پاس دینے کے لئے اگر مال ہے، تو بے مال والے کے پاس بھی دینے کے لئے ایک چیز موجود ہے، اور وہ دعا اور اعتراف ہے۔ اور بلاشبہ دعا اور اعتراف کی اہمیت کسی مادی عطیہ سے کم نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page