دعا بھی عمل
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
دعا بھی عمل ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ مکی دور میں قبیلہ دوس کے ایک شخص طفیل بن عمر والدوی آپ کے پاس آئے۔ انہوں نے آپ سے قرآن کو سنا اور پھر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد آپ کی اجازت سے وہ اپنے قبیلہ میں واپس گئے اور ان کو اسلام کی طرف بلانا شروع کیا مگر قبیلہ کے لوگوں نے انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ طفیل بن عمر و دوبارہ آپ کے پاس آئے اور کہا کہ قبیلہ دوس کے لوگ حق کے معاملہ میں سرکشی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے خلاف بد دعا کیجئے ۔ آپ نے اس کے بر عکس ہاتھ اٹھایا اور ان کے حق میں دعا کرنا شروع کیا: اے اللہ ! تو قبیلہ دوس کو ہدایت دے! اے اللہ قبیلہ دوس کو ہدایت دے۔ پھر آپ نے طفیل بن عمرو سے کہا کہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس جاؤ اور اس کو دوبارہ دعوت دو۔ اور اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو (سیرت ابن هشام ج اص (۴۰۹) یہ دعا اور یہ نصیحت کوئی سادہ سی بات نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے طفیل بن عمر کو منفی نفسیات سے نکل کر مثبت نفسیات کی طرف موڑ دیا۔ جن لوگوں کے بارے میں ان کے اندر بیزاری کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا ان کے لئے ان کے اندر خیر خواہی کا جذبہ بیدار کر دیا۔ جس معاملہ میں طفیل بن عمرو صرف حال کو دیکھ رہے تھے۔ اس معاملہ میں آپ نے ان کے اندر مستقبل کو دیکھنے کی نظر پیدا کر دی۔ دعا ایک اعتبار سے خدا سے مانگنا ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ اپنی نفسیات کی صالح تربیت ہے۔ وہ اپنے اندر ربانی طاقت کو بیدار کرنا ہے۔ طفیل بن عمرو جب اس نئی نفسیات کے ساتھ دوبارہ اپنے قبیلہ میں گئے تو وہ گویا ایک نئے انسان بن چکے تھے۔ اب وہ اس قابل تھے کہ زیادہ مؤثر انداز میں حق کی دعوت ان لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں ۔ اس کے بعد نتیجہ ظاہر تھا۔ پورے قبیلہ نے اسلام قبول کر لیا۔ جس سوسائٹی میں لوگ ایک دوسرے کے اتنے خیر خواہ بن جائیں کہ وہ ایک دوسرے کے لئے خدا سے دعا کرنے لگیں وہاں اس کا لازمی فائدہ یہ ہوگا کہ پوری سوسائٹی میں مثبت نفسیات کو فروغ ہوگا اور بلاشبہ بہتر سوسائٹی بنانے کے لئے سب سے زیادہ ضروری جو چیز مطلوب ہے وہ یہی مثبت نفسیات ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader