Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا کے موافق عمل

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا کے موافق عمل اللهم انى اعوذ بک من الفقر و القلة والذلة واعو ذبک من ان اَظْلِمَ او اُظْلَمَ (نسائی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں محتاجی سے اور نہی سے اور ذلت سے۔ اور میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں اس سے کہ میں علم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔ دعا آدمی کی تڑپ کا اظہار ہے۔ دعا یہ ہے کہ آدمی کسی چیز کے لئے بے پناہ خواہش مند ہو وہ اپنا پورا وجود اس کے لئے لگائے ہوئے ہو۔ اور پھر اسی کو وہ اپنے رب سے بھی مانگے ۔ جب آدمی اپنے آپ کو ہمہ تن کسی چیز میں لگادے تو اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اسی کا وہ چرچا کرتا ہے اسی کے لئے دعا میں اس کی زبان سے جاری ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا سنجیدگی کی آخری حد پر جا کر نکلتی ہے۔ اب جو شخص حقیقی معنوں میں محتاجی سے بچنا چاہتا ہو وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کہ خود ایسا عمل کرے جو اس کو محتاجی کی طرف لے جانے والا ہو۔ جو شخص ناداری کو ایک نازک امتحان سمجھتا ہو وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو نا دار بنانے والا عمل نہیں کرے گا۔ جو شخص ذلت سے ڈرتا ہو وہ کبھی ایسا اقدام نہیں کرے گا جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ ذلت کی حالت میں جاپڑے۔ جو آدمی اپنے آپ کو ظالم کے خانہ میں نہ دیکھنا چاہتا ہو وہ کبھی خود سے ظالمانہ کارروائی نہیں کرے گا۔ جو شخص اپنے آپ کو مظلومی کی حالت میں دیکھنا چاہے وہ ایسے معاملہ میں کبھی نہیں کو دسکتا جو نتیجہ اس کو مظلومی کی حالت میں پہونچا دینے والا ہو۔ جو شخص اپنی دعا میں سنجیدہ ہو وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ جس چیز سے بچنے کے لئے وہ خدا سے دعا کرے دعا کے بعد وہ خود اسی چیز میں ملوث ہو جائے ۔ خدا سے وہ مشرق کی سمت میں سفر کی توفیق مانگے اور دعا سے فارغ ہوتے ہی اپنی سواری مغرب کی سمت میں دوڑا دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page