غم کو دعا میں ڈھالنا
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
غم کو دعا میں ڈھالنا قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا ہے۔ ان کے سوتیلے بھائیوں کے غلط سلوک کی وجہ سے وہ وقت آیا جب کہ حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب بظاہر اپنے عزیز بیٹوں سے محروم ہوگئے۔ اس حادثہ کے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبان سے یہ دعائیہ کلمہ نکلا: انما اشکو بثی وحزنی الی اللہ (یوسف ٨٦) یعنی میں رہتا ہے یہ دعا یہ مدعا: اِهْمَا اَشْكُو بَثِّيْ وَحُزْنِيْ اِلَى اللَّهِ (يوسف: ۸۶) میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں۔ (۵۵۱ و تما) پیغمبر کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ ایک اہم حقیقت کو بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن جب کسی غم سے دوچار ہوتا ہے تو وہ عام انسان کی طرح آہ اور فریاد میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایمانی شعور اس کے غم کو دعا میں ڈھال دیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف رجوع ہو اس سے التجا کرنے لگتا ہے کہ وہ اس کے کھونے کو یافت میں بدل دے وہ اس کی محرومی کی حسن تلافی فرمائے۔ کسی انسان کے ساتھ جب غم اور محرومی کا تجربہ پیش آتا ہے تو اس وقت اس کے لئے ردعمل کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک ہے انسانوں کی طرف دیکھنا، اور دوسرا ہے خدا کی طرف دیکھنا۔ جو لوگ حادثہ کے وقت انسان کی طرف دیکھیں وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ انسان کے خلاف فریاد و فغاں میں مبتلا ہو جائیں۔ مگر جس شخص کا یہ حال ہو کہ وہ اس قسم کے تجربہ کے بعد خدا کو یاد کرنے لگے، وہ چھینے والے کے بجائے دینے والے کو اپنا مرکز توجہ بنا لے گا۔ اس کا ذہن مایوسی کے بجائے امید کا آشیانہ بن جائے گا۔ دعا ایک طاقت ہے۔ نازک وقتوں میں دعا مومن کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ دعا اس اعتماد کا سر چشمہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی کھونا آخری نہیں، بلکہ ہر کھونے میں از سر نو پانے کا راز چھپا ہوا ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ ایسے لمحات میں خدا سے دعا کرنا آدمی کے دل کو سکون بخشتا ہے۔ دعا گویا کسی آدمی کے لئے کرائسس منجمنٹ (crisis management) کا بہترین ذریعہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader