Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

مثبت دعا

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

مثبت دعا یہ دنیا حادثات کی دنیا ہے۔ یہاں یکساں حالات کا برقرار رہنا ممکن نہیں۔ یہاں عین فطرت کے قانون اور عین تخلیقی نظام کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ بار بار حالات میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ بار بار نقصان سے سابقہ پیش آتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں یہ نقصان کبھی خوف کی صورت میں پیش آئے گا، کبھی بھوک کی صورت میں، کبھی جانوں اور مالوں میں کمی کی صورت میں ہے کبھی بچوں کی صورت میں اور کبھی ماں اور جان اور فائدہ میں کسی صورت میں (البقرہ ۱۵۵) ۔ ایسی حالت میں ایک انسان وہ ہے جو فریاد و ماتم کرنے لگتا ہے ۔ وہ شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ وہ مایوسی کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے ۔ مگر یہ سچے انسانوں کا طریقہ نہیں ۔ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جو سیدھے راستہ سے بھٹک جاتے ہیں ۔ ایسے موقع پر کسی انسان کے لئے صحیح اور سچا طریقہ صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ وہ سارے معاملہ کو مالک کائنات پر ڈال دے۔ وہ مصیبت کو صبر کا معاملہ بنائے نہ کہ بے صبری کا۔ وہ اس کو وقتی تاثر کے خانہ میں ڈال لے نہ کہ مستقل تاثر کے خانہ میں۔ جن لوگوں کے اندر یہ ربانی شخصیت ہو جو سچائی کے راستہ کو پائے ہوئے ہوں۔ ان پر جب ایسی کوئی آفت آتی ہے تو ان کی زبان سے نکل پڑتا ہے کہ ہم اللہ کے لئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ خدایا تو ہماری مصیبت میں ہم کو اجر دے۔ تو اس کے بعد ہمارے لئے خیر کی صورت پیدا فرمادے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللهم اجرنا فی مصیبتنا واخلف لنا خير منها) جو بندہ شخصی یا قومی مصیبت پیش آنے کے بعد یہ کہہ پڑے۔ اس کو فوراً ایک نیا سنبھال لمل جائے گا۔ جھٹکا لگنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا۔ نا امیدی کے تجربہ سے دوچار ہونے کے بعد وہ جلد ہی امید کا نیا تحفہ اپنے لئے پالے گا۔ ایسے لوگ ماضی کو کھو کر دوبارہ اپنے مستقبل کو پا لیتے ہیں، وہ محرومی میں بھی یافت کا سرمایہ حاصل کر لیتے ہیں۔ جہاں بظاہر کہانی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی ہو وہاں بھی وہ ایک نیا پیرا گراف معلوم کر لیتے ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنی زندگی کی کہانی کو از سر نو شروع کر سکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page