بارش شروع ہوگئی
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
گھر پہنچ کر سلطان نے اپنے لڑکے الحكم سے کہا کہ آج قاضی منذر نے مجھ کو بہت تکلیف دی ۔ اب میں نے طے کر لیا ہے کہ ان کے پیچھے جمعہ کی نماز کبھی نہیں پڑھوں گا۔ الحكم نے کہا: قاضی منذر کا امام ہونا یا نہ ہونا آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ ان کو معزول کر دیجئے اور ان کی جگہ دوسرا کوئی امام مقرر کر دیجئے جو ایسی گستاخی نہ کرے ۔ یہ سن کر سلطان غصہ میں آگیا ۔ اس نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر کہا: تمہارا برا ہو! ایک شخص جو ہدایت سے دور ہے اور راستہ سے بھٹکا ہوا ہے کیا اس کی خوشی کی خاطر قاضی منذر جسے خوبوں والے آدمی کو معزول کر دیا جائے ۔ یہ بات کبھی نہیں ہوسکتنی (ھذامالا يكون) مجھے ان باتوں سے چوٹ لگی اسلئے میں نے انکے پیچھے جمعہ نہ پڑھنے کی قسم کھائی۔ میری خواہش ہے کہ اس قسم کے کفارہ کی کوئی صورت نکل آئے۔ تاہم قاضی منذر ہماری زندگی میں اور اپنی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں گے ۔ (بل يصلى بالناس حياتنا وحياتة انشاء الله تعالى) چنانچہ قاضی منذر بدستور جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ عبدالرحمن الناصر کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے نے بھی ان کے مقام کو اسی طرح باقی رکھا۔ سلطان عبد الرحمن الناصر کے زمانہ میں ایک بار قحط پڑا۔ بہت سخت حالات پیدا ہو گئے۔ سلطان نے اپنا ایک خاص آدمی قاضی منذر بن سعید کے پاس بھیجا اور درخواست کی کہ آپ استسقاء کی نماز پڑھائیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بارش برسائے۔ قاضی منذر نے سلطان کے قاصد سے پوچھا کہ سلطان نے میرے پاس دعا کا پیغام بھیجا ہے مگر وہ خود کیا کر رہے ہیں۔ قاصد نے کہا: آج سے زیادہ ہم نے کبھی ان کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں پایا۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ حیران و پریشان ہیں۔ تنہائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ مٹی کے فرش پر نماز پڑھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہے تھے اور اللہ سے کہہ رہے تھے : خدایا میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے کیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے لوگوں کو عذاب دے گا حالانکہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (هذه ناصیتی بیدک، اتراک تعذب بی الرعیه وانت ارحم الراحمین) یہ سن کر قاضی منذر کے چہرے پر اطمینان ظاہر ہو گیا۔ انہوں نے قاصد سے کہا: اپنے ساتھ بارش لے کرو اپس جاؤ۔ اب ضرور بارش ہوگی۔ کیوں کہ زمین کا حاکم جب تضرع کرتا ہے تو آسمان کا حاکم ضرور رحم فرماتا ہے ( اذا خشع جبار الارض فقد رحم جبار السماء) چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قاصد واپس ہو کر گھر پہنچا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader