Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

صحتِ فکر

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

صحتِ فکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: اللهم ارنا الحق حقا وارقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً و ارزقنا اجتنابه و ارنا الاشیاء كما هي (اے اللہ! حق کو ہمیں حق کی صورت میں دکھا اور ہمیں اس کی پیروی کی توفیق دے۔ اور باطل کو ہمیں باطل کی صورت میں دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کا توفیق دے اور اشیاء کو ویسا ہی پاس تو ہیں پاس کی صورت میں دیکھا اور ہیں اس لیے پے ہی ویں دے اور پیروں و دیاں دکها جیسا کہ وہ ہیں) یہ گویا صحت فکر کی دعا ہے ۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ اس لئے یہاں ہر چیز پر التباس کا پردہ ڈال دیا گیا ہے ۔ کوئی بات جب آدمی کے سامنے آتی ہے تو ہمیشہ اس کا خطرہ رہتا ہے کہ وہ اس کو غلط رخ سے لے لے۔ اور پھر اس غلط تاویل کے لئے اس کو خوبصورت الفاظ بھی مل جائیں۔ اس فتنہ سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ آدمی رائے قائم کرنے میں بے حد محتاط ہو۔ نیز اس معاملہ میں وہ مذکورہ دعا سے برابر مدد لیتا ہے۔ مثلاً آپ تو توحید کا خالص نظریہ پیش کریں گے اور سننے والا فوراً انسانی بادشاہوں کی مثال دے کر کہنے لگے گا کہ ٹھیک ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، مگر بادشاہوں تک پہنچنے کے لئے درمیانی وسائل ہوتے ہیں۔ اسی طرح خدا تک پہنچنے کے بھی درمیانی وسائل ہیں۔ آپ ایک شخص کے سامنے قرآن کی آیت پیش کر کے کہیں گے کہ دشمن سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ، اسکے بعد تم دیکھو گے کہ دشمن بھی تمہارا گہرا دوست بن گیا ہے۔ وہ شخص کہے گا کہ یہ تو تم بے غیرتی کی بات کر رہے ہو۔ ہمیں تو دشمن کو سبق سکھانا ہے، اسکے بغیر وہ اپنی مخالفانہ کارروائی سے باز نہیں آسکتا۔ آپ قرآن وحدیث کا حوالہ دے کر کہیں گے کہ اس دنیا میں کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے، اور آپ کا مخاطب اس کی تردید میں یہ الفاظ پالے گا کہ یہ تو بزدلی کی تعلیم ہے۔ اسلام کا طریقہ اقدام کا طریقہ ہے، اسلام کا طریقہ پسپائی کا طریقہ نہیں۔ چیزوں کو صحیح رخ سے دیکھنا اور معاملات میں صحیح رائے قائم کرنا، خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اس نعمت کے مالک وہی لوگ بنتے ہیں جو غلط تاویلات کے فتنے سے اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page