Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

بادشاہ بھی

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

بادشاہ بھی یری ان عبد الملک بن مروان خطب یوماً خطبة بلیغة ثم قطعها وبکی بکاء شدیداً ثم قال: یا رب ان ذنوبی عظيمة و ان قلیل عفولک اعظم منها. اللهم فامح بقلیل عفوک عظیم ذنوبی. فبلغ ذالک الحسن فبکی وقال لو کان کلام یکتب بالذهب لکتب هذا الکلام (الدعوة ۱۲ جمادی الآخرة ۱۴۰۵ھ) کلام يكتب بالذهب مکتوب ھذا الکرم (الندوة 11 جمادی الآخره 1341ھ) بیان کیا جاتا ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ایک روز ایک بلیغ خطبہ دیا۔ پھر وہ رک گیا۔ اور شدت کے ساتھ رویا۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ اے میرے رب! بے شک میرا گناہ بہت زیادہ ہے مگر تیری تھوڑی معافی اس سے بھی زیادہ ہے۔ اے اللہ! اپنی تھوڑی سی معافی سے میرے زیادہ گناہ کو مٹادے۔ یہ بات حضرت حسن بصری کو پہنچی تو اس کو سن کر وہ رو پڑے اور کہا کہ اگر کوئی کلام سونے سے لکھا جاتا تو یقیناً یہ کلام اس قابل تھا کہ اسے سونے سے لکھا جائے۔ عبدالملک بن مروان (۸۵ - ۲۳ھ) بنو امیہ کا نہایت ذہین اور مدبر خلیفہ تھا۔ حجاج بن یوسف ثقفی اسی کا عامل تھا جس نے مکہ پر چڑھائی کی اور عبداللہ بن زبیر کو قتل کیا۔ عبدالملک بن مروان کا شمار تابعین کے گروہ میں ہوتا ہے۔ مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانہ کے جابر بادشاہ بھی خدا کے خوف سے خالی نہ تھے۔ کسی نہ کسی موڑ پر ان کا جذبہ پھٹ پڑتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ’’دینداره‘ لوگ بھی خوف خدا سے خالی ہو گئے ہیں۔ ان کی نمازوں نے ان کے دلوں کو نرم نہیں کیا۔ ان کے ذکر نے ان کے سینہ کو چھلنی نہیں کیا۔ ان کا ایمان وہ ایمان نہیں بنا جو ان کو خدا کے سامنے کھڑا کر دے۔ موجودہ زمانہ کے لوگوں پر قرآن کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں: پھر تمہارے دل سخت ہو گئے تو وہ پتھر کی مانند ہیں یا اس سے بھی زیادہ سخت۔ اور بعض پتھر تو ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اور بعض ایسے ہیں جو پھٹ پڑتے ہیں پھر ان سے پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض ایسے ہیں جو خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو (البقرۃ ۷۴)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page