Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

بددعا نہیں

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

بددعا نہیں ليس لك من الامر شئى اويتوب عليهم او يعذبهم فانهم ظالمون. ولله مى فى السماوات و ما فى الارض يغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء ولله غفور رحيم (آل عمران ۱۲۹-۱۲۸) ترجمہ: تم کو کچھ اختیار نہیں۔ اللہ یا ان کو توبہ کی توفیق دے یا ان کو عذاب دے کیوں کہ وہ ظالم ہیں۔ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کافروں اور مشرکوں پر لعنت کی اور ان کے خلاف بددعا کی۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ اس آیت میں ان کافروں اور مشرکوں کو صاف طور پر ”ظالم“ کہا گیا ہے۔ مگر ظالم ہونے کے باوجود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ آپ ان پر لعنت بھیجیں اور ان کے خلاف بددعا فرمائیں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے تحت مختلف روایتیں جمع کی ہیں۔ ان کے مطالعہ سے آیت کا مفہوم پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ یہاں ہم کچھ روایتوں کو مختصر طور پر نقل کرتے ہیں۔ امام بخاری نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کی دوسری رکعت میں جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد یہ کہتے: اللهم العن فلاناً و فلاناً (خدایا فلاں اور فلاں پر لعنت کر) اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی (اور لعنت سے منع کر دیا) امام احمد نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے کہ اے اللہ حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو، صفوان بن امیہ پر لعنت کر، اس پر مذکورہ آیت اتری (اور آپ کو لعنت سے منع کر دیا گیا) امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین میں سے کچھ لوگوں کا نام لے کر ان کے خلاف بد دعا کرتے تھے۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت اتاری (تو آپ نے بد دعا چھوڑ دی)۔ امام بخاری نے ایک اور روایت میں نقل کیا ہے کہ غزوہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو گئے تو آپ نے کہا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کرے۔ اس وقت مذکورہ آیت اتری۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page