Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

بددعا سے بچنا اور ہمیشہ اچھی دعا کرنا

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

بددعا سے بچنا اور ہمیشہ اچھی دعا کرنا رسول اللہ صلے للہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب کوئی شخص آپ سے اپنے حق میں دعا کیلئے کہتا تو آپ فوراً انہیں الفاظ میں اس کیلئے دعائیہ کلمات کہتے جن الفاظ میں اس نے اپنے لئے دعا کی درخواست کی تھی۔ حضرت ابو ہریرہ نے اپنی مشرک ماں کیلئے دعا کی درخواست کرتے ہوئے کہا: اے خدا کے رسول اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے (اد ع اللہ ان يهدى ام ابی هريرة) آپ نے فوراً دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے (اللہم اہدا ام ابی ھریرۃ) نیز حسب موقع اس میں کچھ بہتر الفاظ کے ساتھ اضافہ فرمادیتے۔ ایک بار حضرت ابو ہریرہ نے آپ سے کہا کہ اے خدا کے رسول میرے لئے خدا سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھ کو اور میری ماں کو اپنے مومن بندوں میں محبوب بنادے (ادع اللہ ان يحببنى وامی الی عبادہ المومنین) آپ نے فرمایا: اے اللہ ابو ہریرہ اور ان کی ماں کو اپنے مومن بندوں میں محبوب بنادے اور اپنے مومن بندوں کو ان دونوں کے لئے محبوب کرد (الله حبب عبدك هذا يعنی ابا هريرة وامہ الی عبادہ المومنین) (اللہم حبب عبیدک ہذا وامہ الی عبادک المومنین وحبیبہم الیھا)۔ یہ طریقہ آپ کا اچھی دعا کیلئے تھا۔ لیکن اگر کوئی شخص بد دعا کیلئے کہتا تو اس صورت میں آپ کا طریقہ دوسرا ہوتا۔ اب آپ آدمی کی درخواست کے برعکس اسکے لئے بہتری کی دعا کرنے لگتے۔ طفیل بن عمر والدوسی مکہ میں آپ کے ہاتھ پر اسلام لائے۔ اسکے بعد اپنے وطن واپس جاکر قبیل دوس میں تبلیغ کرنے لگے۔ مگر ان کی بیوی کے والد کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول قبلہ دوس کیلئے بد دعا فرمائیے۔ آپ نے حضرت طفیل سے کوئی بحث نہ کی بلکہ ان الفاظ میں دعا کرنا شروع کر دیا: اے اللہ قبیلہ دوس کے لوگوں کو ہدایت دے (اللہم اھد دوسھا) اس کے بعد حضرت طفیل نے دوبارہ اپنے قبیلہ میں واپس آکر تبلیغ کی تو سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ انہی میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے مذکورہ واقعات میں جو طریقہ ملتا ہے یہی مومن کا اصل مزاج ہے۔ مومن کے دل میں دوسروں کے لئے خیر خواہی ہوتی ہے۔ اسلئے وہ بھی ایک مومن کیلئے وہی بہتر چیز چاہنے لگتا ہے جس کا وہ مومن خود خواہاں ہو۔ مومن دوسرے کی ہدایت کا حریص ہوتا ہے، اسلئے جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص صحیح راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے تو وہ اس کے خلاف بد دعا نہیں کرتا۔ بلکہ اسکے حق میں خدا سے یہ درخواست کرتا ہے کہ وہ اس کا سینہ ہدایت کیلئے کھول دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page