اسما حُسنیٰ اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
اسما حُسنیٰ اور اسمِ اعظم قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: وللہ الاسماء الحسنیٰ (الاعراف: 180) یعنی اللہ ہی کے لئے ہیں اچھے نام (best names)۔ یہ بات قرآن میں چار مقامات پر کہی گئی ہے۔ (الاعراف: 180 ; الاسراء: 110 ; طہ: 8 ; الحشر: 24) یہاں نام سے مراد نام نہیں ہیں، بلکہ صفات (attributes) ہیں، یعنی تمام اچھی صفتیں خدا ہی کے لئے ہیں۔ اسماء حسنی کی تعداد کیا ہے؟ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اسماء حسنی کی تعداد ننانوے ہے۔ بعض علماء اسماء حسنی کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اسماء حسنی کی تعداد ایک ہزار تک ہے (تفسیر ابن کثیر جلد 2، صفحہ 269)۔ مگر اس معاملے میں تعداد کی حیثیت اضافی ہے۔ یہ تعداد دراصل لسانی فرہنگ یا مجموعۂ الفاظ (vocabulary) کے اعتبار سے ہے۔ انسانی زبان کے الفاظ محدود ہوتے ہیں، لیکن خدا ایک لامحدود ہستی ہے اس لئے خدا کی صفات بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے لامحدود ہیں۔ اسماۂ حسنیٰ کی ننانوے تعداد گویا کہ خدا کی نمائندہ صفات ہیں۔ اس اعتبار سے خدا کی بقیہ صفات بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انہیں بنیادی صفات میں شامل ہیں۔ خدا کے ننانوے نام ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عـن ابی هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ان لله تسعة و تسعين اسماً، مأة الا واحداً ـ من احصاها دخل الجنة (صحیح البخاری، باب لله مأة اسم غير واحدة، صحيح مسلم، کتاب الذکر والدعاء) یعنی حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ننانوے نام ہیں' سو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader