سائنسی مطالعہ
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
بت پرستی کا یہی ظاہرہ (phenomenon) قبر پرستی کی دنیا میں بھی نظر آتا ہے۔ قبر پرست لوگ صاحب قبر کے نام پر انتہائی بے بنیاد قسم کے فرضی کہانیاں وضع کرتے ہیں ۔ وہ جھوٹے خوابوں کا طلسم بناتے ہیں اور پھر ان فرضی کہانیوں اور فرضی خوابوں کو اس طرح پھیلاتے ہیں جیسے کہ وہ سچ مچ واقعہ ہوں۔ اس طرح اصنام کچرا اور درگاہ کلچر انسان کو دیوالیپن کی حد تک اعلیٰ اخلاق سے دور کر دیتا ہے۔ انسان عین اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے ایک جذباتی وجود ہے۔ جذبات کا تفرق (diversification) ممکن نہیں۔ انسان فطری طور پر اپنے جذبات کا کوئی ایک مرکز چاہتا ہے۔ جذبات کا کئی مرکز ہونا ایک غیر فطری بات ہے جو عملاً ممکن نہیں۔ بت پرستی اس معاملے میں بھی انسانی نفسیات سے ٹکرا جاتی ہے۔ فطری طور پر انسان کسی ایک ہی چیز سے جذباتی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ بت پرستی کے مذہب میں چوں کہ یہ مراکز معتدد ہو جاتے ہیں، اس لئے اس کا عملی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حقیقی خدا پرستی سرے سے ختم ہو جاتی ہے۔ خدا پرستی کے نام پر کچھ بے روح مظاہر باقی رہتے ہیں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ایک مثال کسی ماں کا بچہ اپنی ماں سے دور ہو تو اس کی ماں ایسا نہیں کرے گی کہ وہ مٹی یا پتھر کے ذریعے اپنے بچے کی مورتی بنائے اور اس پر صبح و شام پھول چڑھائے، یا وہ اپنے بچے کے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے اس کی کئی مورتیاں بنائے اور ان مورتیوں کے آگے وہ مختلف رسمیں ادا کرے۔ اگر کوئی ماں ایسا کرے تو اس طرح اس کو اس کے جذبات کی تسکین نہیں ملے گی۔ اپنے بچے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق قائم نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ماں ایسا کرے تو اس کے لئے اپنے بچے سے تعلق محض ایک ظاہر داری کی رسم بن جائے گی۔ اس طرح کی ظاہر دارانہ رسوم کسی بھی درجے میں ماں اور بچے کے درمیان لطیف تعلق کا بدل نہیں بن سکتیں۔ یہی وجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader