سائنسی مطالعہ
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
شکل دینے کے با وجود ہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف مٹی اور پتھر ہیں ، ان کے اندر کوئی ذاتی طاقت نہیں۔ اس لئے بتوں کی سطح پر خدا پرستی عملاً صرف ایک بے روح رسم بن جاتی ہے۔ انسان کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ بتوں سے قلبی ربط قائم کر سکے ۔ اس لئے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ رسمی اعمال، خدا پرستی کی جگہ لے لیتے ہیں۔ آدمی خدا پرستی کے نام پر کچھ بے روح رسموں ، مثلاً پھول چڑھانے یا نذرونیاز دینے کو خدا پرستی کے لئے کافی سمجھ لیتا ہے۔ مزید یہ کہ آدمی خدا کے نام پر بتوں سے قریب ہوتا ہے، لیکن بتوں کی طرف سے جوابی طور پر اس کو کوئی انسپریشن (inspiration) نہیں ملتا، انسان داخلی طور پر اپنے لئے کوئی روحانی غذا نہیں پاتا، اس لئے بتوں کا کلچر محض ایک بے روح تعلق بن کر رہ جاتا ہے۔ بتوں سے قربت کے باوجود انسان کو اتنی بھی روحانی کیفیت نہیں ملتی جتنا کہ ایک باپ یا ماں کو اپنے بچے سے مل کر حاصل ہوئی ہے۔ انسان ایک باروح شخصیت ہے۔ اپنی اس فطرت کے اعتبار سے اس کو ایک باروح خدا درکار ہے۔ پتھر کی مورتی سے اس قسم کا روحانی تعلق قائم ہونا ممکن نہیں۔ روحانی تعلق دو طرفہ تعلق کا نام ہے۔ ہمارے اندر کیفیات ہوں، لیکن دوسری طرف سے اس کا جواب نہ ملے تو اس قسم کا ایک طرفہ تعلق صرف اوپری یا غیر فطری ہوگا، وہ انسان کی زندگی میں کوئی حقیقی درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ واقعہ ایک اور شدید تر خرابی پیدا کرتا ہے، وہ یہ کہ بت کلچر آخر میں جھوٹ کلچر یا ظاہر داری کلچر بن کر رہ جاتا ہے۔ بتوں کے اندر خدائی اوصاف ثابت کرنے کے لئے فرضی کہانیاں بنائی جاتی ہیں اور ان کو خوب شہرت دی جاتی ہے، تا کہ بتوں کا جو فائدہ حقیقی طور پر نہیں ملا، ان کے بارے میں لوگوں کو یہ فرضی تاثر دیا جائے کہ وہ حاصل ہوئے یا وہ حاصل ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader