Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

ربط قائم کر سکے۔ اسماءِ حسنیٰ کے ذریعے خدا سے جو تعلق قائم ہوتا ہے، وہ ایک زندہ اور معلوم تعلق ہوتا ہے۔ مثلاً انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ خدا ایک ہو اور وہ زندہ اور قائم خدا ہو۔ اب جب وہ کہتا ہے کہ: الله لا اله الا هو الحي القيوم ( ال عمران: 2) تو وہ عین اپنی فطری مانگ کے مطابق، فوراً خدا کا ایک حقیقی ماڈل پا لیتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان ایک زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ اس اعتبار سے اسمائے حسنیٰ، خدا اور انسان کے درمیان تصوراتی ربط (contact at conceptual level) کا زندہ اور حقیقی ذریعہ ہیں۔ وہ انسان کی فطری تلاش کا ایک بھر پور جواب (complete response) ہیں۔ اسمائے حسنیٰ، انسان کے لئے خدا کا مستند تعارف ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کے ذریعے انسان خدا کی صفاتی شخصیت کو یقینی تصورات میں بین کرتا ہے۔ اسمائے حسنیٰ خدا کا ایک تصوراتی ڈھانچہ صفاتی شخصیت کا تعیّن صورتاً اپنے ذہن میں لا سکتا ہے۔ اسماءِ حسنیٰ کا وہ تصورِ مادہ نہیں ہے جو کسی انسانی قیاس پر قائم نہیں ہے؛ بلکہ وہ خود خدا کے الہامی علم پر قائم ہے۔ وہ اعتقادی بے یقینی میں بھٹکے ہوئے انسان کو یقین کا سر چشمہ عطا کرتا ہے۔ اسماءِ حسنیٰ کے ذریعے انسان اس صحیح فریم ورک کو پا لیتا ہے جس کی روشنی میں وہ خدا کو اپنے لئے پوری طرح قابلِ فہم (understandable) بنا سکے۔ اسماءِ حسنیٰ اور دیگر مذاہب اسماءِ حسنیٰ کا معاملہ تاریخی نقطہ نظر سے کیا جائے تو ایک انوکھی چیز دریافت ہوگی، وہ یہ کہ اسماءِ حسنیٰ کا تصور (concept) اسلام کے سوا کسی اور موجودہ مذہب یا کسی اور موجودہ اعتقادی نظام میں نہیں پایا جاتا۔ یہ اسلام کی استثنائی صفت ہے کہ اس کے اندر خدا کے بارے میں اسماءِ حسنیٰ کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اگر آپ اسلام اور دوسرے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کریں تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page