Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

اسماءِ حسنیٰ اور دیگر مذاہب

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

معلوم ہوگا کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ بے حد سنگین بات ہے۔ چنانچہ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں انسان اور خدا کے درمیان گہرا تعلق سرے سے نہیں پایا جاتا۔ ہر دوسرے مذہب میں خدا کی حیثیت صرف ایک علامتی ہستی (symbolic God) کی ہے نہ کہ ایک حقیقی اور زندہ خدا کی۔ مثال کے طور پر یہودی مذہب کو لیجئے۔ یہودی اعتقادیات کا ماخذ بائبل (عہد نامہ قدیم) ہے۔ آپ اس کتاب کا مطالعہ کریں تو اس میں اسماءِ حسنیٰ کی نوعیت کا خداوندی تعارف موجود نہیں۔ ایک جگہ خدا کو بتاتے ہوئے اس کے بارے میں ’’میں جو ہوں‘ سو میں ہوں‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سلسلے میں بائبل کے اصل الفاظ اس طرح ہیں : تب موسیٰ نے خدا سے کہا: جب میں بنی اسرائیل کے پاس جاکر ان کو کہوں کہ تمہارے باپ داداے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے اور وہ تجھے ہے کہ اس کا نام لیا ہے تو میں ان کو کیا بتاؤں۔ خدا نے موسیٰ سے کہا: میں جو ہوں سو میں ہوں۔ سو تو بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ میں جو ہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ (خروج 3:13, 14) اسی طرح مسیحیت کا مذہبی ماخذ وہ کتاب ہے جس کو نیا عہد نامہ (بائبل) کہا جاتا ہے۔ اس نئے عہد نامے میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح جب صلیب پر چڑھائے گئے تو ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: الوہی، الوہی، لما شبتقنی، یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا: My God, my God, why have you foresaken me. (Mark 15:34) مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق، حضرت مسیح کا سولی پر چڑھ کر مصلوب ہونا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا، وہ مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق، ایک خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ کفارۂ مسیح کے عقیدہ (atonement) کے مطابق، خدا نے حضرت مسیح کو اسی خاص مقصد کے لئے دنیا میں بھیجا تھا کہ وہ انسانی گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لئے سولی پر چڑھ جائیں اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page