Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا لیا ہے

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

منتر کی تلاش ہوئی ۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ ایک جگہ پہنچا یہاں اس کی ملاقات ایک سادھو سے ہوئی۔ جو اس منتر کو جانتا تھا۔ اس نے سادھو سے درخواست کی کہ وہ اس کو یہ منتر بتادے۔ سادھو نے اس کو وہ منتر بتادیا۔ سادھو نے کہا کہ وہ منتر "بسم سم" ہے ۔ تم فلاں پہاڑ کی چوٹی پر جاؤ ۔ وہاں تم کو ایک محل ملے گا۔ اس محل کے گیٹ پر ایک تالا لگا ہوا ہوگا۔ تم اس کے سامنے کھڑے ہو کر کہنا : " کھل اے سم سم کھل اے سم سم پھر وہ تالا کھل جائے گا۔ وہ آدمی روانہ ہوا۔ لمبے سفر کے بعد وہ محل کے گیٹ پر پہنچا مگر اس وقت وہ منتر کو بھول چکا تھا۔ وہ گیٹ کے سامنے کھڑا ہو کر دوسرے دوسرے الفاظ بولتا رہا۔ مثلاً کھل اے ٹم ٹم، کھل اے دم دم، کھل اے بم بم، مگر دروازہ نہیں کھلا۔ اب وہ وہاں سے واپس ہو کر دوبارہ سادھو کے پاس گیا۔ سادھو نے کہا کہ تم غلط منتر بول رہے تھے اس لئے تالا نہیں کھلا۔ دوبارہ جاؤ اور سم سم کہو۔ آدمی نے منتر کو خوب اچھی طرح یاد کر لیا اور سفر کر کے دوبارہ وہاں پہنچا۔ اس نے محل کے گیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: کھل جائے سم سم اور پھر فوراً دروازہ کھل گیا۔ اکثر لوگ اسم اعظم کو اسی قسم کا ایک طلسماتی لفظ سمجھتے ہیں، مگر اس قسم کی سوچ بلکل غلط ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسم اعظم ڈکشنری کے کسی لفظ کا نام نہیں، وہ انسان کی اپنی داخلی کیفیت کا نام ہے۔ جب بھی کوئی سچا بندہ اعلیٰ قلبی کیفیات کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اس کو فرشتوں کی مدد حاصل ہو جاتی ہے۔ اس وقت اس کے اندر سے مخصوص قسم کے ربانی الفاظ نکلنے لگتے ہیں، اسی کا نام اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ اس قسم کی دعا، خدائی الہام کے تحت ہوتی ہے اور جو دعا خدائی الہام کے تحت انسان کے دل سے نکلے، اس کا معاملہ وہی ہوتا ہے جو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: اجابت از در حق بہر استقبال می آید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page