دعا لیا ہے
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
الفاظ کی صورت میں بہہ پڑتی ہے۔ ایسے طوفانی لمحات میں آدمی کی زبان سے جو کچھ نکلتا ہے، اسی کا نام دعا ہے۔ یہی وہ دعا ہوتی ہے جو اسم اعظم کی زبان میں نکلتی ہے اور ایسی دعا ہمیشہ اپنی پہلی زبان میں ہوتی ہے نہ کہ اپنی دوسری زبان میں۔ ایک واقعہ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں دس سال سے ایک سوال کا جواب تلاش کر رہا ہوں، لیکن اب تک مجھے اس کا جواب نہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا وہ کیا سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسم اعظم کیا ہے۔ اس سلسلے میں، میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں، بہت سے علماء اور بزرگوں سے ملاقاتیں کیں، مگر اب تک کسی نے اس کا تشفی بخش جواب نہیں دیا۔ اب میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو آپ مجھے اس کا جواب دے کر میری پریشانی کو دور فرمائیں۔ میں نے کہا آپ کی پریشانی ایک خود ساختہ پریشانی ہے۔ آپ نے یہ فرض کر لیا ہے کہ اسمِ اعظم جادو کے منتر کی طرح کوئی منتر ہے۔ اب آپ چاہتے ہیں کہ منتر کا وہ لفظ آپ کو معلوم ہو جائے، مگر ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ اسمِ اعظم کسی لفظ کا نام نہیں ہے بلکہ کیفیت کا نام ہے۔ کیفیتِ اعظم کے ساتھ جو دعا کی جائے وہی اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ یہ دراصل آپ کی اپنی قلبی کیفیت ہے، جو کسی دعا کو اسمِ اعظم کی دعا بناتی ہے۔ کسی انسانی لفظ میں یہ طاقت نہیں کہ وہ خدا کا اسمِ اعظم بن جائے، وہ خدا کی لامحدود ہستی کا احاطہ کرلے۔ میں نے کہا کہ آپ ہی کی طرح کا ایک شخص تھا۔ اس کو ایک خزانے کی تلاش تھی۔ اس کو معلوم ہوا کہ یہ خزانہ فلاں پہاڑ کی چوٹی پر ایک محل کے اندر رکھا ہوا ہے۔ اس محل کے گیٹ پر ایک تالا لگا ہوا ہے۔ یہ تالا کسی کنجی سے نہیں کھلتا، بلکہ وہ ایک منتر سے کھلتا ہے۔ اب اس کو اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader