دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی مگر تو نے مجھے وہ چیز نہ دی۔ بخدا، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح وشام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آکر آواز دیتا ہے...... "کون ہے جو مجھ سے مانگے، تا کہ میں اسے دوں، مگر جنہیں لینا ہے وہ اس سے غافل بنے ہوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔ دعا کی طاقت حدیث میں آیا ہے کہ: لا يرد القضاء الا الدعاء (الترمذی، کتاب القدر) یعنی قضا اور قدر کے فیصلے کو صرف دعا بدل سکتی ہے۔ خدا نے اس دنیا کا نظام اسباب و علل کی بنیاد پر قائم کیا ہے، اور پھر انسان کو مکمل آزادی دے دی ہے۔ اب انسان اپنی آزادی کے مطابق عمل کرتا ہے اور خدا کے قائم کردہ نظام اسباب و علل سے مطابقت یا مخالفت کی بنیاد پر اس کا اچھا یا برا نتیجہ اس کے سامنے آتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نظام بالکل حتمی ہے۔ کوئی آدمی خواہ مخلص ہو یا غیر مخلص، اس کو بہر حال اسی نظام کو بھگتنا ہے۔ کسی بھی شخص کے لئے اس نظام کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ دعا کا ہے۔ کوئی آدمی جب سچی دعا کرتا ہے اور اس وقت اگر خدا اس کی دعا قبول کر لیتا ہے تو وہ اسباب کے نظام میں مداخلت کر کے اس کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ یہی مطلب ہے اس بات کا کہ دعا، قضا اور قدر کو بدل دیتی ہے۔ لیکن دعا الفاظ کی تکرار کا نام نہیں ہے، حتی کہ قرآنی دعائیں یا ماثور دعائیں بھی اگر صرف رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار ہوں تو وہ بھی مؤثر نہیں ہو سکتیں۔ نظام قضا کو بدلنے کے لئے وہ دعا درکار ہے جو دل کو پھاڑ کر کی جاتی ہے، جو دل کی پھٹن کی آواز ہوتی ہے، جس میں آدمی کا پورا وجود شامل ہو جاتا ہے، جو انسانی شخصیت میں ایک بھونچال کے بعد ظہور میں آتی ہے۔ اس قسم کی دعا کی قبولیت کی ایک اور شرط یہ ہے کہ دعا کرنے والے کا ذہنی تزکیہ اتنا زیادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader