Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

دعا کی طاقت

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو چکا ہو کہ اس کی سوچ خدا کی سوچ بن جائے۔ ایسا آدمی وہی دعا کرے گا جو خدا کے نزدیک قابل قبول ہوتی ہے۔ اس کی زبان سے ایسی دعا نہیں نکلے گی جو خدا کی سنت کے مطابق قابل قبول ہی نہیں۔ پیغمبر کی دعا کی مثال خدا کے تمام پیغمبروں نے اسم اعظم کے ساتھ دعائیں کی ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر میدان جنگ کی طرف نگاہ ڈالی تو آپ کو نظر آیا کہ طاقت ور مشرک فوج کے مقابلے میں موحدین کی ایک کمزور فوج کھڑی ہوئی ہے، جو تعداد میں بھی کم ہے اور سامان حرب میں بھی کم۔ اس نابرابری کو دیکھ کر آپ کے جذبات میں ایک ہیجان پیدا ہوا۔ آپ کمال عجز کے ساتھ خدا کے سامنے زمین پر سجدے میں گر پڑے۔ اس وقت آپ کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے: اللهم، ان تهلک هذا العصابة من اهل الاسلام، لا تعبد فى الارض ابدا (مسند احمد، جلدا، صفحه 30) یعنی اے اللہ! اگر تو اہل اسلام کے اس گروہ کو آج ہلاک کر دے تو اس کے بعد زمین پر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی۔ یہ دعا بھی اپنے ربانی جذبات کے اعتبار سے اسم اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا تھی، جو کامل طور پر قبول ہوئی۔ کمزور گروہ نے خدا کی مدد سے طاقت ور گروہ کو مکمل شکست دیدی۔ اسم اعظم کے ساتھ دعا، صرف پیغمبروں کے ساتھ خاص نہیں، اس دعا کی توفیق ہر بندۂ خدا کو ملتی ہے۔ جو شخص بھی ایمان اور اخلاص کے اعلیٰ ربانی جذبات کے ساتھ خدا کی طرف رجوع ہو وہ خدا کی مدد سے اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنے کی توفیق پاتا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ ایسی دعا کے موقع پر آدمی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا پورا وجود خدا کی تجلی میں نہا اٹھا ہے۔ اس وقت وہ ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جو اس نے اس سے پہلے کبھی سوچے نہیں تھےـ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page