آپ مشتعل نہیں ہوئے
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
عُرِضَتْ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ. فَلَمْ يَقُولُوهَا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 310-309)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کون شخص ہے جو ہم کو ایسے راستہ سے لے جائے جو ان کے راستہ سے مختلف ہو۔ ایک شخص نے کہا کہ میں اے اللہ کے رسول۔ چنانچہ وہ لوگوں کو لے کر ایسے راستہ پر چلا جو سخت دشوار اور پتھریلا تھا اور پہاڑی راستوں سے گزرتا تھا۔ جب لوگ اس راستہ کو طے کر چکے اور مسلمانوں کو اس پر چلنا بہت شاق گزرا تھا اور وہ وادی کے ختم پر ایک ہموار زمین میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ کہو، ہم اللہ سے مغفرت مانگتے ہیں اور اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ لوگوں نے اسی طرح کہا۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم یہی حطَّہ ہے جو بنی اسرائیل کو پیش کیا گیا تھا۔ مگر انھوں نے نہیں کہا۔ حطہ کا مطلب توبہ اور بخشش ہے۔ اس صبر آزما موقع پر توبہ واستغفار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے بتائے ہوئے صابرانہ طریق کار کا آدمی کو اس قدر زیادہ پابند ہونا چاہیے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے جو کمزوری یا جھنجھلاہٹ پیدا ہو اس کو بھی آدمی گناہ سمجھے اور اس کے لیے خدا سے معافی مانگے۔ اس کو خدا کے طریقہ پر راضی رہنا چاہیے، نہ کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر خود ساختہ طریقے نکالنے لگے۔ حدیبیہ کا مقام مکہ سے 9 میل کے فاصلہ پر ہے ۔ یہاں آپ ٹھہر گئے تا کہ حالات کا جائزہ لے سکیں۔ حدیبیہ سے آپ نے خراش بن امیہ خزاعی کو ایک اونٹ پر سوار کر کے اہل مکہ کے پاس بھیجا کہ ان کو خبر کر دیں کہ ہم صرف بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئے ہیں، جنگ کے لیے نہیں آئے ہیں۔ جب وہ مکہ پہنچے تو اہل مکہ نے ان کے اونٹ کو ذبح کر ڈالا اور خود حضرت خراش کو بھی قتل کرنے کے لیے دوڑے۔ مگر وہ کسی طرح بچ کر واپس آگئے۔ پھر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader