آپ مشتعل نہیں ہوئے
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ مشتعل نہیں ہوئے 6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کر رہے ہیں۔ صحابہ کو آپ نے یہ خواب بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے کہ چھ سال کے بعد اب مکہ جانے اور حرم کی زیارت کرنے کا موقع ملے گا۔ اس خواب کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ چودہ سو اصحاب بھی آپ کے ساتھ ہو گئے۔ غدیر اشطاط کے مقام پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ قریش آپ کے سفر کی خبر پا کر سرگرم ہو گئے ہیں۔ انھوں نے ایک لشکر جمع کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ کعبہ کی زیارت سے کسی کو روکنا عرب روایات کے بالکل خلاف تھا۔ مزید یہ کہ آپ اشارہ خداوندی کے تحت یہ سفر کر رہے تھے۔ مگر اس کے باوجود آپ اس خبر کو سن کر مشتعل نہیں ہوئے۔ آپ کے جاسوس نے بتایا کہ خالد بن ولید دو سو سواروں کو لے کر مقام غمیم تک پہنچ گئے ہیں تا کہ آپ کا راستہ روکیں۔ یہ خبر سن کر آپ نے یہ کیا کہ معروف راستہ کو چھوڑ دیا اور ایک غیر معروف اور دشوار گزار راستہ سے چل کر حدیبیہ تک پہنچ گئے تا کہ خالد سے ٹکراؤ کی نوبت نہ آئے۔ اس واقعہ کو ابن ہشام نے جن الفاظ میں نقل کیا ہے وہ یہ ہیں: قَالَ:مَنْ رَجُلٌ يُخْرِجُ بِنَا عَلَى طَرِيقٍ غَيْرِ طَرِيقِهِمُ الَّتِي هُمْ بِهَا؟ قَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:فَسَلَكَ بِهِمْ طَرِيقًا وَعِرًا أَجْرَلَ بَيْنَ شِعَابٍ، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنْهُ، وَقَدْ شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَأَفْضَوْا إِلَى أَرْضِ سَهْلَةٍ عِنْدَ مُنْقَطَعِ الْوَادِي، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم لِلنَّاسِ:قُولُوا نَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَنَتُوبُ إِلَيْهِ. فَقَالُوا ذَلِكَ، فَقَالَ:وَاللَّهِ إِنَّهَا لِلْحِطَّةُ الَّتِي

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader