حلف الفضول
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
حلف الفضول زمانہ جاہلیت میں عرب کے کچھ لوگوں نے ایک باہمی معاہدہ کیا تھا جس کو حلف الفضول کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کا مقصد لوٹ کھسوٹ اور ظلم کوروکنا تھا۔ اس معاہدہ میں شریک ہونے والوں کے نام تھے فضل بن فضالہ فضل بن ودداعہ اور فضیبل بن حارث۔ چنانچہ انھیں کے نام پر اس معاہدہ کا نام حلف الفضول (فضل والوں کا معاہدہ) پڑ گیا۔ یہ معاہدہ ابتدائی بانیوں تک زندہ رہا۔ ان کے مرنے کے بعد صرف ان کا نام رہ گیا۔ زبیر بن عبدالمطلب نے اپنے بعض اشعار میں اس معاہدہ کا ذکر اس طرح کیا ہے: إِنَّ الْفُضُولَ تَحَالَفُوا، وَتَعَاقَدُوا أَلَّا يُقِيمَ بِبَطْنِ مَكَّةَ ظَالِمُ أَمْرٌ عَلَيْهِ تَعَاهُدُوا، وَتَوَانَقُوا فَالْجَارُ وَالْمُعْتَرُّ فِيهِمْ سَالِمُ فضل نامی افراد نے باہم معاہدہ کیا اور عہد باندھا کہ مکہ میں کوئی ظالم نہ رہنے پائے گا۔ انھوں نے اس بات پر باہم عہد باندھا اور اقرار کیا۔ پس مکہ میں پڑوسی اور ضرورت سے آنے والا سب محفوظ ہیں (روض الانف از سهیلی، جلد 2، صفحه 47)۔ واقعہ فیل کے بعد عرب میں ایک باہمی جنگ ہوئی جس کو حرب الفجار (حرام مہینوں میں کی جانے والی جنگ) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے بعد دوبارہ عرب میں بدامنی بڑھ گئی۔ اسی زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ یمن کے قبیلہ زبید کا ایک شخص کچھ تجارتی سامان لے کر مکہ آیا۔ قریش کے ایک سردار عاص بن وائل سہی نے اس کا سامان خریدا مگر اس کی مطلوبہ قیمت نہیں ادا کی۔ مذکورہ یمنی تاجر نے مکہ والوں سے فریاد کی۔ اس نے کچھ اشعار کہے اور ان کے ذریعہ عام لوگوں تک اپنی شکایت پہنچائی۔ اس واقعہ نے مکہ کے کچھ درد مند لوگوں کو چوکس کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader