حلف الفضول
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا ۔ زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر بنو ہاشم اور بنو تمیم کے لوگ عبداللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہوئے تا کہ صورت حال کے بارے میں مشورہ کریں ۔ انھوں نے حلف الفضول کی از سرنو تجدید کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے باہمی عہد کے ذریعہ اپنے کو پابند کیا کہ وہ مظلوم کا ساتھ دیں گے اور ظالم سے اس کا حق دلا کر رہیں گے ـــ تَعَاقَدُوا بِاللَّهِ لِيَكُونَنَّ مَعَ الْمَظْلُومِ حَتَّى يُؤَدِّىَ إِلَيْهِ حَقَّهُ ( طبقات ابن سعد، جلد 1، صفحه 123 ) ۔ اس عہد کے بعد وہ لوگ عاص بن وائل کے پاس گئے۔ اس سے مذکورہ شخص کا سامان چھینا اور اس کو اس کے مالک کے حوالے کیا۔ یہ معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی عمر میں ہوا تھا۔ وہ اگرچہ عربوں کا ایک معاہدہ تھا مگر آپ نے اس کی تصدیق فرمائی ۔ اس کی بابت آپ کے یہ الفاظ سیرت کی کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں: لَقَدْ شَهِدْتُ فِي دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُدْعَانَ حِلْفًا لَوْ دُعِيتُ بِهِ فِي الْإِسْلَامِ لَأَجَبْتُ، تَحَالَفُوا أَنْ يَرُدُّوا الْفُضُولَ عَلَى أَهْلِهَا وَأَلَّا يَعُزَّ ظَالِمٌ مَظْلُومًا ( سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحه 258 ) یعنی، میں عبداللہ بن جدعان کے گھر میں ہونے والے معاہدہ میں شریک تھا۔ اگر اسلام کے بعد بھی مجھے اس میں بلایا جاتا تو میں ضرور اس میں شریک ہوتا۔ انھوں نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ حقدار تک اس کا حق پہنچائیں گے اور یہ کہ کوئی ظالم کسی مظلوم پر غالب نہ آسکے گا۔ ابن ہشام نے اس ذیل میں بعض واقعات نقل کیے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حلف الفضول کا ذہنی اثر بعد کے عربوں میں بھی باقی تھا۔ ولید بن عتبہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے بھتیجے تھے۔ حضرت معاویہ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ اسی زمانہ میں ولید بن عتبہ اور حضرت حسین بن علی کے درمیان ایک جائیداد کا جھگڑا ہوا جو کہ ذوالمرود نامی گاؤں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader