حلف الفضول
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
تھی ۔ ولید نے طاقت کے زور پر اس پر قبضہ کرنا چاہا۔ حضرت حسین نے فرمایا: أَحْلِفُ بِاللَّهِ لَتُنْصِفَنِّي مِنْ حَقِّي، أَوْ لَاأَخُذَنَّ سَيْفِي، ثُمَّ لَأَقُومَنَّ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ثم لأدعونَّ بِحِلْفِ الْفُضُولِ (سیرت ابن هشام، جلد 1، صفحه 124)۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم کو میرے حق کے معاملہ میں انصاف کرنا ہوگا ورنہ میں اپنی تلوار لوں گا اور مسجد نبوی میں کھڑا ہو جاؤں گا اور حلف الفضول کے نام پر پکاریں گا۔ عبید اللہ بن زبیر جو اس وقت وہاں موجود تھے انھوں نے بھی یہی بات کہی۔ انھوں نے کہا: میں بھی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر حسین اس کے لیے پکاریں گے تو میں اپنی تلوارلوں گا اور ان کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا یہاں تک کہ ان کا حق ان کو دیا جائے یا ہم دونوں ایک ساتھ قتل ہو جائیں۔ یہ بات مسور بن مخرمہ زہری کو پہنچی تو انھوں نے بھی اسی طرح کہا۔ اسی طرح یہ بات عبد الرحمن بن عثمان تیمی کو پہنچی تو انھوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ جب ولید بن عقبہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے حضرت حسین کو ان کا حق ادا کر دیا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحه 146)۔ اوپر کی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ بدامنی اور فساد کے مسئلہ کے حل کے لیے اسلام کا مصدقہ طریقہ حلف الفضول کا طریقہ ہے۔ یعنی معاشرہ کے ذمہ دار افراد کا خدا کے سامنے عہد باندھ کر اپنے آپ کو اس کا پابند کرنا کہ جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوگا کہ ایک شخص دوسرے شخص پر ظلم کر رہا ہو تو وہ فورا دوڑ کر موقع پر پہنچیں گے۔ مظلوم کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ بنائیں گے۔ وہ اپنی ساری قوت اور ساری کوشش صرف کر کے ظالم کو مجبور کریں گے کہ وہ اپنے ظلم سے باز آئے اور مظلوم کو اس کا حق ادا کرے ۔ آج ہر بستی میں یہ صورت حال ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سستا تا ہے۔ کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader