جب لوگ پکار پر دوڑ پڑتے تھے
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
جب لوگ پکار پر دوڑ پڑتے تھے اسلام سے پہلے عرب میں جو شعراء پیدا ہوئے ان کو جاہلی شعراء کہا جاتا ہے۔ ایک جاہلی شاعر اس زمانہ کے ایک عرب قبیلہ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : لَا يَسْأَلُونَ أَخَاهُمْ حِينَ يَنْدُبُهُمْ فِي النَّائِبَاتِ عَلَى مَا قَالَ بُرْهَانَا یعنی ان کے بھائی پر جب کوئی مصیبت پڑتی ہے اور وہ ان کو مدد کے لیے پکارتا ہے تو وہ اس سے اس کی دلیل نہیں پوچھتے۔ بلکہ فوراً اس کی مدد کے لیے دوڑ پڑتے ہیں (عیون الأخبار، جلد 1 ، صفحہ 285)۔ زمانہ جاہلیت کے عرب میں اس کو شرافت کی خاص پہچان سمجھا جاتا تھا۔ اسی زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص سے کچھ لوگوں کی دشمنی ہو گئی۔ ایک روز ان لوگوں نے اس شخص کو اکیلے میں پالیا۔ وہ لوگ دوڑے کہ اس کو مار ڈالیں۔ وہ آدمی بھاگا۔ بھاگتے ہوئے اس کو ایک بدو کا خیمہ ملا۔ وہ خیمہ میں گھس گیا اور کہا کہ مجھے بچاؤ۔ بدو عرب نے اس کو خیمہ کے اندر بٹھایا اور خود خیمہ کے دروازے پر تلوار لے کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے دشمن جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا: میں نے اس آدمی کو پناہ دی ہے، اب اگر تم اس کو پکڑنا چاہتے ہو تو پہلے تم کو میری تلوار کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ مجھ کو ختم کرنے کے بعد ہی تم اس کو پا سکتے ہو۔ عباسی خلافت کے زمانہ میں ایک شخص نے بغادت کی۔ اس کا نام بابک خرمی تھا۔ اس نے موصل کے علاقہ میں اپنی بڑی طاقت بنالی۔ خلیفہ معتصم باللہ (227-180ھ) نے اس کی سرکوبی کے لیے ایک بڑی فوج بھیجی۔ بابک خرمی جب مسلمانوں کے لشکر کے محاصرہ میں آکر تنگ ہوا تو اس نے یہ تدبیر کی کہ اس نے اس وقت کے رومی بادشاہ نوفل بن میکائیل (قیصر روم) کو ایک خفیہ خط بھیجا جو اپنی سلطنت کا بڑا حصہ کھو کر ترکی کے علاقہ میں مقیم تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader