جب لوگ پکار پر دوڑ پڑتے تھے
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
بابک نے اس کو لکھا کہ معتصم باللہ نے اس وقت اپنی تمام فوجیں میرے مقابلہ پر روانہ کردی ہیں۔ بغداد اور سامرہ فوجوں سے خالی ہوگئے ہیں۔ تمھارے لیے بہترین موقع ہے کہ تم خلافت بغداد پر حملہ کر کے ان سے اپنی سابق سلطنت چھین لو۔ شاہ روم اپنی ایک لاکھ فوج کے ساتھ روانہ ہوا۔ سب سے پہلے اس نے زبطرہ پر شب خون مارا جو ترکی کی سرحد پر واقع تھا۔ وہاں کے مردوں کو قتل کیا اور بچوں اور عورتوں کو گرفتار کر کے لے گیا۔ یہ 29 ربیع الثانی 223 ھ کا واقعہ ہے۔ ایک شخص زبطرہ کے حادثہ کی خبر لے کر معتصم باللہ کے پاس بغداد پہنچا۔ واقعات بتاتے ہوئے اس نے کہا کہ ایک عرب عورت کو رومیوں نے پکڑا اور اس کو کھینچ کر لے جانے لگے تو اس نے پکارا وا معتصماہ (ہائے معتصم) معتصم باللہ اس وقت مجلس طرب میں تھا۔ مگر جیسے ہی اس نے یہ خبر سنی لبیک لبیک کہتا ہوا فوراً وہ اپنے تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ میں اس وقت تک آرام نہیں کروں گا جب تک عرب خاتون کی مدد نہ کرلوں۔ وہ اپنے محل پر چڑھا اور اس کے اوپر کھڑا ہو کر پکارا الرحیل الرحیل (کوچ ، کوچ) اس کے بعد وہ گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا اور کوچ کا نقارہ بجوا دیا۔ لشکر اور سرداران لشکر گروہ در گروہ آ کر اس کے ساتھ شریک ہوگئے۔ وہ اس معاملہ میں اتنا سنجیدہ تھا کہ قاضی اور گواہ بلا کر اس نے وصیت لکھوائی کہ اگر میں جنگ سے واپس نہ آؤں تو میرا اثاثہ کس طرح تقسیم کیا جائے۔ معتصم باللہ اپنے لشکر کے ساتھ زبطرہ پہنچا تو رومی وہاں سے بھاگ کر اپنے قلعہ بند شہر عمور یہ جا چکے تھے۔ معتصم باللہ آگے بڑھا اور اپنی فوجوں کو لے کر رومی علاقہ (ترکی) میں داخل ہو گیا۔ اس نے عموریہ کا محاصرہ کر لیا۔ 55 روز کے محاصرہ کے بعد رومی فوجوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ معتصم باللہ نے عموریہ کی تمام شاہی اور فوجی تعمیرات کو ڈھاکرز زمین کے برابر کر دیا۔ قیصر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader