Urdu book · فسادات کا مسئلہ

صبر کا طریقہ

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

سارا غصہ تمھاری وجہ سے ہے۔ اگر وہ تم کو پا جائیں تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ اگر چہ یہ تمھارے لیے ایک خطرہ کی بات ہے۔ تاہم امید ہے کہ اللہ کی مدد حاصل ہوگی اور تم کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ آخر کار وہ راضی ہو گیا۔ اور نکل کر مجمع کے سامنے آ گیا۔ اس نے کہا کہ آپ کی گائے میں نے ماری ہے اس لیے آپ میرے ساتھ جو چاہیں کریں۔ البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ میں نے مارنے کی نیت سے نہیں مارا تھا بلکہ اس کو بھگانے کے لیے مارا تھا۔ اتفاق کی بات تھی کہ وہ مر گئی۔ مجمع نے جب گائے کے قاتل کو دیکھا اور اس کی باتیں سنیں تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ وہ لوگ جو ندہ کو پھونکنے اور اور شہر کی مسلم آبادی کو ویران کرنے پر تلے ہوئے تھے وہ صرف اتنی سی بات پر راضی ہو گئے کہ گائے کا قاتل گائے کی قیمت ادا کر دے۔ قیمت فوراً ادا کر دی گئی اور مسئلہ اسی وقت ختم ہو گیا۔ 2۔ فیر وز بھر کا ضلع گڑ گاؤں (ہریانہ) کا ایک قصبہ ہے۔ قصبہ میں تقریباً تمام دکانیں غیر مسلم حضرات کی ہیں۔ مگر اطراف کے تمام دیہاتوں میں مسلمانوں (مییوں) کی اکثریت ہے۔ فیروز پور کے بازار میں زیادہ تر یہی مسلمان خریداری کرتے ہیں ۔ 1980 کے آغاز میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک غیر مسلم خاندان کی لڑکی گھر سے غائب ہو گئی۔ لوگوں کو شبہ ہوا کہ چھ مسلم نوجوانوں نے ایسا کیا ہے۔ چنانچہ غیر مسلم حضرات نے کافی شور و غل کیا۔ پولیس میں رپورٹ کر کے کچھ مسلمانوں کو گرفتار کرایا۔ ایک روز احتجاجی ہڑتال کی۔ بسوں کو روک کر مسلم مسافروں کو پریشان کرنا شروع کیا۔ ہندی اخبارات میں اغوا کی رپورٹ شائع کرائی۔ اس طرح کے واقعات نے علاقہ میں سخت اشتعال پیدا کر دیا۔ اور اندیشہ ہو گیا کہ کسی بھی دن فساد بر پا ہو جائے اور اس کے بعد سارا علاقہ آگ اور خون کی نذر ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page