Urdu book · فسادات کا مسئلہ

صبر کا طریقہ

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر کا طریقہ فساد کا کوئی سبب پیدا ہو تو اس وقت ایک طریقہ صبر کا ہے اور دوسرا طریقہ اشتعال کا۔ ایسے موقع پر مشتعل ہونا فساد کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن کو قابو میں رکھ کر سوچا جائے اور صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے تو مسئلہ جہاں تھا وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں ہم چند واقعات لکھتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ صبر کا طریقہ اختیار کرنا کس طرح فساد کی آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ ۱۔ غالباً 1973 کی بات ہے۔ دارالعلوم ندوہ (لکھنو) کے قریبی محلہ میں ایک غیر مسلم کی گائے تھی۔ ایک مقامی مسلمان نے کسی وجہ سے گائے کو مارا۔ اتفاق سے چوٹ کسی نازک مقام پر لگ گئی اور گائے مرگئی۔ غیر مسلم حضرات کو جب معلوم ہوا کہ ان کی گائے ایک مسلمان نے مار ڈالی ہے تو پورے علاقہ میں اشتعال پیدا ہو گیا سیکڑوں کی تعداد میں غیر مسلم لوگ جمع ہو گئے۔ سب سے قریبی مسلم مرکز ندوہ تھا۔ وہ لوگ ندوہ میں گھس آئے اور اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے۔ یہ بڑا نازک وقت تھا۔ اندیشہ تھا کہ وہ لوگ ندوہ کو آگ لگا دیں اور پھر سارے شہر میں فساد برپا ہو جائے ۔ ندوہ کے ذمہ داروں نے اس موقع پر مشورہ کیا۔ طے ہوا کہ اس مشتعل مجمع کو ٹھنڈا کرنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ گائے کے قاتل کو مجمع کے حوالے کر دیا جائے۔ اگر چہ یہ ایک خطر ناک کام تھا مگر شہر کو آگ اور خون سے بچانے کی کوئی دوسری تدبیر ممکن نہ تھی۔ چنانچہ ذمہ دار حضرات مذکورہ مسلمان کے پاس گئے جو غالباً ندوہ کے ایک کمرہ میں چھپا ہوا تھا۔ اس سے کہا کہ اس وقت ندوہ اور سارا شہر خطرہ میں ہے۔ مگر ان کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page