صبر کا طریقہ
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے۔ اتفاق سے کچھ مسلم طلبانے اس کو دیکھ لیا۔ انھوں نے فوراََ یونیورسٹی پروآکٹر کو مطلع کیا۔ پروآکٹر نے اسی وقت پولیس کو ٹیلی فون کیا۔ پولیس اطلاع ملتے ہی فوراً پہنچ گئی اور چاروں آدمیوں کو عین موقع پر گرفتار کر لیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لوگوں کی یہی دانش مندی تھی جس کی وجہ سے ایسا ہوا کہ 80-1979 میں علی گڑھ میں مہینوں تک فساد کا سلسلہ جاری رہا مگر سارا فساد شہر کے علاقہ میں ہوا اور ریلوے لائن کے دوسری طرف یونیورسٹی کا وسیع علاقہ بالکل محفوظ رہا۔ علی گڑھ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ ہر تخریبی سازش کو دانش مندی کے ذریعہ غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد کے اسباب مکمل طور پر پیدا ہونے کے باوجود اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئی واقعہ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو ہمیشہ اس کے اندر اس کی کاٹ کے اسباب بھی موجود ہوتے ہیں۔ اور یہ ممکن ہوتا ہے کہ ان کو استعمال کرکے اس کو غیر مؤثر بنا دیا جائے۔ مگر اس امکان کو استعمال کرنے کی لازمی شرط صبر ہے۔ واقعہ خواہ کتنا ہی خلاف مزاج ہو مگر دانش مندی یہ ہے کہ اس کو دیکھ کہ آدمی مشتعل نہ ہو۔ مشتعل آدمی کی عقل کھوئی جاتی ہے۔ وہ کسی معاملہ کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتا۔ اس لیے وہ اس کو دفع کرنے کی صحیح منصوبہ بندی بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد انتہائی ضروری ہے کہ آدمی مشورہ کرے۔ مشورے سے بیک وقت دو فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں کئی آدمیوں کی سوچ اور تجربات شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے معاملہ کو زیادہ وسعت کے ساتھ سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس میں متاثرہ ذہن کے ساتھ غیر متاثرہ ذہن کی رائے بھی شامل ہو جاتی ہے۔ اس لیے جو فیصلہ ہوتا ہے وہ ٹھنڈے ذہن سے سوچا سمجھا فیصلہ ہوتا ہے، نہ کہ مغلوب زمین کے تحت کیا ہوا فیصلہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader