Urdu book · فسادات کا مسئلہ

صبر کا طریقہ

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ یک طرفہ الزام بازی کا طریقہ ہرگز اختیار نہ کیا جائے۔ بلکہ فیاضی کے ساتھ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا جائے۔ انسان کی یہ نفسیات ہے کہ اگر وہ دیکھتا ہے کہ مقابل کا آدمی اپنی غلطی کو نہیں مان رہا ہے تو اس کے متعلق اس کے اندر انتقام کے جذبات امڈتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر آدمی دیکھے کہ اس کا حریف اپنی غلطی کو کھلے دل سے مان رہا ہے تو اچانک اس کے اندر رحم اور عفو کے جذبات امڈ آتے ہیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ غلطی کا اعتراف کرکے اس نے اپنی سزا آپ دے لی ہے، اب میں مزید سزا اسے کیا دوں۔ یہ بھی حد درجہ ضروری ہے کہ قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں باقاعدہ قانون کی حکومت ہو وہاں قانون اپنے ہاتھ میں لینا اپنے کو مجرم کی صف میں کھڑا کرنا ہے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر آدمی اپنے آپ کو بیک وقت دو فریقوں کا مد مقابل بنا لیتا ہے۔ ایک وہ شخص جس نے کوئی شر کیا تھا، اور دوسرے ملک کا انتظامیہ۔ اس کے برعکس اگر آپ معاملہ کو فوراً انتظامی ذمہ داروں کے حوالے کر دیں تو آپ درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔ اب سارا معاملہ شرپسند اور انتظامیہ کے درمیان ہو جاتا ہے۔ آخری ضروری چیز اتحاد ہے۔ کوئی بھی اجتماعی تدبیر اجتماعی طاقت ہی سے کامیاب ہوتی ہے اور اتحاد ہی کا دوسرا نام اجتماعی طاقت ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات بخوبی سمجھ لینا چاہیے کہ اتحاد اس طرح کبھی نہیں ہوتا کہ تمام لوگوں کی رائے ایک ہو جائیں۔ ایسا اتحاد موجودہ دنیا میں ممکن نہیں ۔ اتحاد دراصل اختلاف رائے کے باوجود متحد ہونے کا نام ہے، نہ کہ اختلاف رائے نہ ہونے پر متحد ہونے کا۔ اگر ہم اپنے حریف کے مقابلہ میں موثر بنانا چاہتے ہیں تو ہم کو رائے کی قربانی دینے پر تیار ہونا پڑے گا۔ رائے کی قربانی ہی پر اتحاد قائم ہوتا ہے اور جہاں اتحاد موجود ہو وہاں کسی شریر کی شرارت کا کوئی گزر نہیں۔ تدبیر وہی ہے جو خاموش تدبیر ہو کسی ناخوش گوار صورت حال کے پیش آنے کے بعد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page