قدرت کا سبق
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے یہ تدبیر کرتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے حدود بانٹ لیتے ہیں۔ دوسانڈ ایک علاقہ میں پہنچ جائیں تو چلتے چلتے جب کسی مقام پر دونوں کی مڈ بھیڑ ہوتی ہے تو دونوں ایک دوسرے کو سینگ مار کر علامتی طور پر اظہار کرتے ہیں کہ یہاں سے ایک طرف تمھارا علاقہ ہے اور یہاں سے دوسری طرف میرا علاقہ۔ اس علامتی تکرار کے بعد دونوں اپنے پیچھے کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اس کے بعد دونوں مکمل طور پر اس سرحدی تقسیم کی پابندی کرتے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ دوسانڈ آپس میں لڑ جائیں۔ 3۔ آپ نیلی گھوڑی یا بیر بہوٹی کو چھوئیں تو وہ پاؤں سمیٹ کر بے حس و حرکت زمین پر پڑ جائے گی۔ بہت سے جانوروں کے لیے اپنے دشمن سے بچنے کا یہ آسان طریقہ ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ دشمن سر پر آ گیا ہے اور اس سے بھاگنا ممکن نہیں ہے تو وہ اپنے کو بے حس و حرکت بنا لیتے ہیں۔ ان کا دشمن ان کو دیکھتا ہے مگر وہ مردہ سمجھ کر ان کو چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے کو غیر موجود ظاہر کر کے اپنے کو دشمن سے بچا لیتے ہیں اور جب دشمن ہٹ جاتا ہے تو بھاگ جاتے ہیں۔ 4۔ جو جانور بلوں کے اندر رہتے ہیں ان کے لیے ہمیشہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ ان کا دشمن ان کی بل کے اندر گھس جائے اور دشمن سے وہ اس طرح گھر جائیں کہ بل کے محدود رقبہ کی وجہ سے وہ بھاگ نہ سکیں ۔ چنانچہ بل والے جانور ہمیشہ اپنی بل میں ایک عقبی گزرگاہ رکھتے ہیں جو ہنگامی حالات میں کام آ سکے ۔ جب بھی کوئی جانور دیکھتا ہے کہ سامنے کے سوراخ سے اس کا دشمن اس کے گھر میں گھس آیا ہے، وہ پیچھے کے سوراخ سے نکل کر باہر بھاگ جاتا ہے اور دشمن کی زد سے اپنے کو بچا لیتا ہے۔ 5۔ ایک بہت چھوٹا کیڑا ہے۔ وہ اپنے حریف کیڑے کو ختم کرنے کے لیے بہت دلچسپ طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنے حریف کیڑے کے جسم میں اپنا ڈنک چھپاتا ہے جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader