Urdu book · فسادات کا مسئلہ

قدرت کا سبق

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

انجکشن کی سوئی کی مانند ہوتا ہے یعنی نکلیلا اور اندر سے سوراخ دار وہ نہایت پھرتی سے اپنے بے حد چھوٹے انڈے کو اس کے جسم میں داخل کر دیتا ہے۔ یہ انڈا جو دراصل زندہ بچے کی ابتدائی صورت ہوتی ہے، اپنے میزبان جانور کے جسم کا اندرونی حصہ کھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ لاروا (چھوٹے بچہ) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اب یہ لاروا باہر نکلنے کے لیے زور کرتا ہے۔ میزبان جانور کے لیے یہ سخت ترین لمحہ ہوتا ہے مگر وہ ایک ایسے دشمن کے مقابلہ میں اپنے کو بے بس پاتا ہے جو خود اس کے پیٹ میں گھسا ہوا ہو۔ اس طرح لاروا زور کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان جانور کے جسم کو پھاڑ کر باہر آ جاتا ہے۔ یہ عمل اتنا شدید ہوتا ہے کہ اس کے بعد میزبان جانور کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ قدرت کے تربیت یافتہ حیوانات میں بچاؤ کے جو طریقے رائج ہیں وہی انسان کے لیے بھی پوری طرح کارآمد ہیں۔ انسان کے لیے بھی اپنے حریف کے مقابلہ میں بہترین تدبیر یہ ہے کہ وہ براہ راست تصادم سے بچے اور کترا کر نکلنے کی کوشش کرے۔ حریف کو کبھی یہ محسوس کرنے کا موقع نہ دیا جائے کہ آپ اس کے دائرہ میں مداخلت کر رہے ہیں۔ اگر حریف کا سامنا ہو جائے تو اس کے مقابلہ میں اپنے کو غیر فعال ظاہر کر کے اپنے کو اس کی زد سے ہٹا لیا جائے یا اپنے دائرہ میں سمٹ کر اس کو یہ احساس دلایا جائے کہ میری وجہ سے تمھارا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں۔ اسی کے ساتھ ایسی تدبیروں کا اہتمام کیا جائے جن کے ذریعہ ہنگامی حالات میں دشمن کا وار خالی دیا جا سکے ۔ اور اگر حریف کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہو تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ حریف کے اپنے جسم میں اس کا ایک ”عدو“ داخل کر دیا جائے جس کی غذا حریف کا جسم ہو۔ وہ اس کو خاموشی کے ساتھ کھاتا رہے، یہاں تک کہ اندر ہی اندر دشمن کا خاتمہ کر دے۔ جانوروں نے اپنے بچاؤ کے یہ اصول خود نہیں بنائے، وہ ان کو خدا نے سکھائے ہیں۔ ان طریقوں کو خداوندی تصدیق حاصل ہے۔ پھر یہ کہ جانوروں کی دنیا میں اس قسم کی دفاعی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page