Urdu book · فسادات کا مسئلہ

فسادات کا مسئلہ اور اس کا حل

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

فسادات کا مسئلہ اور اس کا حل فرقہ وارانہ فسادات کا مسئلہ ہمارے قائدین کی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ پچھلے 35 سال میں ہماری قیادت نے جس واحد مسئلہ پر سب سے زیادہ توجہ دی ہے وہ یہی مسئلہ ہے۔ ہر بار جب کوئی فساد ہوتا ہے تو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ تقریریں کی جاتی ہیں۔ بیانات جاری ہوتے ہیں۔ ریلیف فنڈ قائم ہوتے ہیں۔ غرض سرگرمیوں کا ایک طوفان امڈ پڑتا ہے۔ ان فسادات کے سلسلہ میں ہمیں جو کچھ کرنا ہے، وہ اگر یہی ہو جو اب تک ہوتا رہا ہے تو یہ کام اس ملک میں اتنے بڑے پیمانہ پر ہو چکا ہے کہ اب تک فسادات کا خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر عملی صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ موجودہ کوششوں کی یہ ناکامی آخری طور پر ثابت کر رہی ہے کہ یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ اگر وہ اس کا حل ہوتا تو 35 سال کی مدت کافی تھی کہ اس کا کوئی مفید مطلب نتیجہ برآمد ہو۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ہم اس معاملہ پر از سر نو غور کریں اور اپنے طریق مکمل کو دوبارہ نئے ڈھنگ سے مرتب کریں۔ فسادات کا پس منظر ہمارے ملک میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں، عام طور پر ان کے آغاز میں ایک چھوٹا سا واقعہ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے واقعہ پر ہیبت ناک فساد کا پیدا ہو جانا اتفاقاً نہیں ہوتا۔ اس کے تاریخی اور نفسیاتی اسباب ہیں۔ ہم خواہ اس کو مانیں یا نہ مانیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ پڑوسی قوم میں ہمارے خلاف مستقل طور پر ایک حریفانہ جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب تقسیم کی سیاست ہے۔ ملک کی تقسیم بجائے خود برادران وطن کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page