فسادات کا مسئلہ اور اس کا حل
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
مشتعل کرنے کے لیے کافی تھی۔ مزید یہ کہ تقسیم اس ڈھنگ سے ہوئی کہ تقسیم ہو کر بھی بہت سے نازک مسائل غیر حل شدہ حالت میں باقی رہ گئے۔ اس طرح کے مختلف تاریخی اسباب میں جنھوں نے برادران وطن کو مسلسل طور پہ ہمارے خلاف مشتعل کر رکھا ہے ۔ گویا ایک لاوا ہے جو دلوں میں چھپا ہوا ہے اور کوئی موقع پاتے ہی اچانک پھٹ پڑتا ہے۔ مجھے تسلیم ہے کہ کوئی شخص معقول بنیادوں پر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ تقسیم کی تحریک خود بھی فریق ثانی کے کسی عمل کار عمل تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس دعوے کا عملی فائدہ کیا ہے۔ اس قسم کے دعوے کی اہمیت اس وقت ہوتی ہے جب کہ کسی مسئلہ کا صرف منطقی تجزیہ کرنا مقصود ہو، آدمی کے حقیقی معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ مگر جب کوئی معاملہ فوری زندگی کا معاملہ بن جائے تو ہر عقل مند آدمی کا یہ طریقہ ہے کہ وہ منطقی سلسلہ کو توڑ کر عملی پہلو کو سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے عملی اقدام کے بارے میں کوئی فیصلہ لے سکے۔ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بحث کو اگر لمبا کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا ہم اپنے اقدام کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر سکیں گے اور اصل مسئلہ بدستور اپنی جگہ باقی رہے گا۔ چھری اگر خربوزہ کی سطح تک پہنچ چکی ہو تو اس وقت منطق کی عدالت میں چھری کو ملزم ٹھہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے وقت میں اپنے کو فریق ثانی کی زد سے ہٹانے کا سوال ہوتا ہے، نہ کہ الفاظ کی دنیا میں فریق ثانی کو ذمہ دار ثابت کرنے کا۔ یہ ایک معلوم اور مسلمہ حقیقت ہے کہ کبھی منطقی تقاضے کے مقابلہ میں عملی پہلو زیادہ اہم ہوتا ہے، اور زیر بحث معاملہ میں صورت حال بلاشبہ یہی ہے۔ شہر کی ایک عمارت میں ایک مسلمان نے نیچے کا حصہ کرایہ پر لیا۔ کچھ دن کے بعد اس نے محسوس کیا کہ چھت ٹپک رہی ہے۔ اوپر کے حصہ میں جو صاحب رہتے تھے ان کا غسل خانہ ٹپکنے لگا تھا۔ مستقل پانی کا ٹپکنا ایک مصیبت تھا۔ مزید یہ کہ یہ گندا پانی تھا، کیونکہ غسل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader