تمہید
Urdu book, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
تمهید کسی کے گھر میں آگ لگ جائے تو وہ اس کو بجھانے کے لیے فورا حرکت میں آ جاتا ہے۔ تاہم ایسے موقع پر حرکت میں آنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ اس دنیا کے مالک نے آگ بجھانے کا جو اصول مقرر کیا ہے اس کے مطابق آگ بجھانے کی کوشش کی جائے۔ دوسرے یہ کہ جوش میں آ کر کوئی خود ساختہ حرکت شروع کر دی جائے۔ انسان آزاد ہے کہ دونوں میں سے جو عمل چاہے اختیار کرے۔ مگر یہ یقینی ہے کہ دونوں کا انجام اس دنیا میں یکساں نہیں ہو سکتا۔ اللہ نے جس آگ کو بجھانے کے لیے پانی چھڑکنے کا قانون مقرر کیا ہے اس کو آپ پٹرول چھڑک کر نہیں بجھا سکتے۔ ایسی ہر کوشش صرف اپنی مصیبت میں اضافہ کے ہم معنی ہوگی۔ یہی معاملہ زندگی کے دوسرے مسائل کا بھی ہے، خدا نے اپنی دنیا میں کامیابی کا راز اگر صبر میں رکھا ہے تو آپ اس کو جلد بازی کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے۔ خدا نے اگر ایک واقعی نتیجہ کو عملی جدوجہد سے وابستہ کر دیا ہے تو آپ تقریروں اور بیانات کی دھوم مچا کر اس نتیجہ کو اپنے لیے برآمد نہیں کر سکتے۔ خدا نے اس دنیا کے مسائل کا حل اگر حقیقت پسندانہ طریق عمل میں رکھا ہے تو آپ جذباتیت کے طریقہ پر چل کر اپنے مدعا کو نہیں پاسکتے۔ خدا نے اگر افراد کی خاموش تعمیر میں اصلاح کا راز رکھا ہے تو آپ اجتماعی شورغل کے ذریعہ اصلاح کے مقصد تک نہیں پہنچ سکتے۔ خدا اگر یہ چاہتا ہے کہ آدمی اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اپنا کام بنائے تو آپ دوسروں کو ملزم ثابت کر کے اپنا کام نہیں بنا سکتے۔ خدا نے اپنے قائم کیے ہوئے نظام میں اگر یہ اصول مقرر کیا ہو کہ جو لوگ پھول کے مالک بننا چاہتے ہیں، وہ کانٹوں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader