تمہید
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنا دامن بچا کر پھول کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ تو آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ ایک ایک کانٹے سے الجھیں اور اس کے باوجود تازہ پھول آپ کے حصہ میں آجائے۔ زندگی کی سب سے زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہیں بلکہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہیں۔ ہم دنیا میں قائم ہوئے خدائی نظام سے موافقت کر کے تو سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں مگر اس کے مقررہ نظام سے ہٹ کر کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے۔ مگر یہ آزادی صرف عمل کی آزادی ہے، نہ کہ نتیجہ بر پا کرنے کی۔ ہم بلاشبہ آزاد ہیں کہ جو چاہیں کریں مگر ہم کو یہ قدرت نہیں دی گئی ہے کہ اپنی مرضی کے مطابق جو نتیجہ چاہیں ظاہر کر دیں۔ ہم آزاد ہیں کہ دریا میں چھلانگ لگائیں یا نہ لگائیں۔ لیکن اگر ہم کو تیرنا نہیں آتا اور ہم گہرے دریا میں چھلانگ لگا دیتے ہیں تو ہم کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ اپنے کو ڈوبنے سے بچائیں۔ یاد رکھیے یہ دنیا کسی عذر کو قبول کرنے کے لیے سب سے زیادہ بے رحم واقع ہوئی ہے، خواہ ہم نے اپنے عذر کو کتنے ہی شاندار الفاظ میں مرتب کر رکھا ہو۔ وحید الدین 17 اکتوبر 1980

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader