یہ اسلام نہیں
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
بھائیوں کی عبادت گاہ ہے۔ ہم نے مسجد میں اذان کے لیے لاؤڈ سپیکر لگایا تو انھوں نے بھی اپنے عبادتی مواقع پر گھنٹی بجانی شروع کردی جس کی آواز مسجد تک آتی تھی۔ ہم نے سنجیدگی کے ساتھ ان سے کہا کہ آپ لوگ ہماری نماز کے اوقات میں گھنٹی نہ بجائے۔ وہ نہیں مانے۔ جب کئی باران سے کہا گیا تو وہ بگڑ گئے۔ اس کے بعد جھگڑا ہو گیا۔ میں نے کہا کہ یہ کون سا شرعی مسئلہ ہے کہ نماز کے اوقات میں کوئی غیر قوم کا آدمی اپنی عبادت گاہ میں گھنٹی نہ بجائے۔ یہ نہ کہیں قرآن میں لکھا ہوا ہے اور نہ حدیث میں ہے اور نہ ہمارے فقہا میں سے کسی کا یہ مسلک ہے۔ حتیٰ کہ اسلامی حکومت کے پورے زمانہ میں بھی کسی مسلم حکمران کی طرف سے یہ ہدایت جاری نہیں کی گئی کہ نماز کے اوقات میں دوسری قوموں کے عبادت خانہ میں ناقوس اور گھنٹیاں نہ بجائی جائیں۔ ایسی حالت میں آپ کیوں اس پر برہم ہوتے ہیں۔ کوئی اگر گھنٹی بجاتا ہے تو بجانے دیجیے۔ اس سے نہ نماز میں کوئی خلل واقع ہوتا اور نہ شریعت نے ہمیں ایسے کسی حکم کا مکلف کیا ہے۔ تا ہم مذکورہ بزرگ نے میری بات نہیں مانی، ان کے پاس اگرچہ میری دلیل کا کوئی جواب نہیں تھا مگر وہ اپنی بات کو پر جوش انداز میں بدستور دہراتے رہے۔ اس ملک کے اکثر فسادات اسی قسم کی باتوں سے شروع ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے ۔ جب شریعت نے ہمیں ایسے کسی حکم کا پابند نہیں کیا ہے تو ہم کیوں چاہتے ہیں کہ ہماری مسجد کے سامنے کوئی باجے کا جلوس نہ گزرے۔ کوئی اس کے پاس گھنٹی نہ بجائے۔ اس کی وجہ تمام تر قومی ہے، نہ کہ دینی مسلمانوں نے پچھلے سو سال کی سیاست کے نتیجہ میں انھیں چیزوں کو اپنی قومی عظمت کا نشان بنا لیا ہے۔ وہ اس کو اپنی ساکھ کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ مسجد کے پاس ایسا کوئی واقعہ ہو تو وہ اس میں اپنی بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔ اورا گر وہ اس کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنی قوم کی عزت کو اونچا کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader