Urdu book · فسادات کا مسئلہ

فسادات کا مسئلہ

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بجائے برداشت کا طریقہ اختیار کرے، وہ تصادم کے بجائے بچ کر نکلنے کی تدبیر کرے۔ کون صحیح ہے اور کون غلط کی بحث میں پڑنے کے بجائے وہ مسئلہ کے حل کے پہلو پر دھیان دے۔ اور اگر اس کونزاکت کا احساس نہ ہو تو وہ اپنی عام عادت کے مطابق بچہ کو پول پر دیکھ کر بگڑ اٹھے گا خواہ اس کا یہی انجام کیوں نہ ہو کہ لڑکا 30 فٹ کی بلندی سے سڑک پر جا گرے اور اس کی ہڈی پسلی چور ہوجائے۔ ساری تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ جب آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ ہو تو اس کا انداز اور ہوتا ہے اور جب وہ سنجیدہ نہ ہو تو اس کا انداز بالکل دوسرا ہوتا ہے۔ کوئی دلیل اس شخص کے لیے دلیل ہے جو سنجیدہ ہو۔ سنجیدہ آدمی ہی کسی بات کے وزن کو محسوس کرتا ہے۔ سنجیدہ آدمی ہی کسی مسئلہ کی نزاکتوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص سنجیدہ نہ ہو وہ ہر دلیل کی کاٹ کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ بول دے گا۔ ہر قیمتی بات کو سن کر ایک غیر متعلق بحث چھیڑ دے گا۔ اور اگر اس کی بات کا جواب دے کر بات کو از سر نو واضح کیا جائے تو وہ وضاحت کے خلاف دوبارہ کوئی بحث نکال لے گا۔ اور اصل بات بدستور اس کی گرفت سے دور رہ جائے گی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی دلیل اسی کے لیے دلیل ہے جو اس کو سمجھنا چاہے۔ جو سمجھنا نہ چاہے اس کے لیے کوئی دلیل دلیل نہیں۔ یہ اسلام نہیں ایک مقام کے کچھ مسلمانوں سے میری ملاقات ہوئی۔ وہاں کچھ دن پہلے ایک چھوٹا سا فرقہ وارانہ فساد ہو گیا تھا۔ میں نے اپنے ذوق کے مطابق ”صبر“ کا طریقہ اختیار کرنے کی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں تو مسلمانوں کی طرف سے کوئی اشتعال کا واقعہ نہیں ہوا تھا۔ دوسری قوم کے لوگ خواہ مخواہ ہم سے لڑ گئے۔ میں نے کہا کہ لڑائی کیسے پیش آئی ، انھوں نے قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہاں ہماری ایک مسجد ہے۔ مسجد سے قریب ہی غیر مسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page