Urdu book · فکر اسلامی

جہاد کا مسئلہ

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعوتی جہاد بھی جہاد ہے، بلکہ قرآن کے الفاظ میں، وہ جہاد کبیر ہے۔ وغیرہ۔ موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم اہل فکر اٹھے جنھوں نے دور جدید کے لحاظ سے جہاد کی تعبیر پیش کی ۔ مثلاً 1857ء کے بعد سرسید احمد خاں نے ہندوستان کے مسلمانوں سے یہ کہا کہ تم لوگ تعلیمی جد و جہد کرو یہی اس وقت کرنے کا سب سے بڑا کام ہے۔ اگر تم تعلیم یافتہ ہو گئے تو تمہارے تمام دینی اور دنیوی مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے ۔ اسی طرح 1912ء میں علامہ سید رشید رضا (صاحب المنار) دیوبند آئے۔ اس وقت ہندوستان کے علما انگریزوں کے خلاف سیاسی جہاد میں مشغول تھے۔ سید رشید رضا نے کہا کہ اس وقت کرنے کا اصل کام سیاسی جہاد نہیں ہے بلکہ دعوتی جہاد ہے۔ آپ لوگ اسلام کے پر امن دعوتی مشن کو لے کر اٹھیے ۔ اس طرح آپ زیادہ بہتر طور پر اس مقصد کو حاصل کر لیں گے جس کو آپ مسلح جہاد کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ سرسید احمد خاں اور سید رشید رضا کی یہ رائیں مجتہدانہ رائیں تھیں ۔ اور بعد کے نتائج بتاتے ہیں کہ وہ بلا شبہ صحیح اجتہاد تھا۔ اگرچہ اس اجتہاد کو اس وقت قبول عام نہ مل سکا اور امت زیادہ بڑے پیمانہ پر اس راہ پر نہ چل سکی ۔ اگر اس اجتہاد کو اس وقت قبول عام حاصل ہو جاتا تو یقینی طور پر آج مسلمانوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جس کو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ سرسید فارمولا اور رشید رضا فارمولا کو اگر الفاظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ تھا کہ ۔ سیاسی مسائل کو نظر انداز کرو اور تعلیمی اور دعوتی مواقع کو استعمال کرو: Ignore the political problems. And avail the opportunities available in the fields of education and Da'wah. میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے لحاظ سے یہ ایک صحیح اجتہاد تھا۔ اس میں مومنانہ بصیرت کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page